سیاسی حل نہیں نکلتا تو طاقت کا استعمال ضروری: ویٹیکن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’اس وقت انتہائی موثر اتحاد کی ضرورت ہے جو سیاسی حل نکالنے کی ہرممکن کوشش کرے۔ لیکن اگر یہ ممکن نہیں ہو پاتا تو پھر طاقت کا استعمال ضروری ہو جائے گا‘

ویٹیکن نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں پر دولت اسلامیہ کے حملوں کو روکنے کے لیے اگر سیاسی حل نہیں نکلتا تو طاقت کا استعمال ضروری ہے۔

جنیوا میں ویٹیکن کے سفارتکار آرچ بشپ سلوانو توماسی کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ ’نسل کشی‘ کر رہی ہے اور اس کو روکنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ عام طور پر ویٹیکن طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتی ہے۔

دولت اسلامیہ نے عراق اور شام میں اپنے کنٹرول میں علاقوں میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان علاقوں سے ہزاروں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

آرچ بشپ توماسی نے امریکی کیتھولک ویب سائٹ کرکس کو انٹرویو میں کہا ’اس وقت انتہائی موثر اتحاد کی ضرورت ہے جو سیاسی حل نکالنے کی ہرممکن کوشش کرے۔ لیکن اگر یہ ممکن نہیں ہو پاتا تو پھر طاقت کا استعمال ضروری ہو جائے گا۔‘

آرچ پشپ نے مزید کہا ’ہمیں دولت اسلامیہ کے ہاتھوں نسل کشی کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہم مستقبل میں اس بات پر افسوس کریں گے کہ ہم نے ایسا ہونے سے کیوں نہیں روکا اور ایسا کیوں ہونے دیا۔‘

اسی بارے میں