اسرائیلی انتخابات: کلیدی امیدوار کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق زائنسٹ یونین کو لکد پر معمولی برتری حاصل ہے

17مارچ کو اسرائیل میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں جن میں تقریباً 60 لاکھ ووٹر حقِ راہی دہی استعمال کریں گے۔ ان انتخابات میں اسرائیلی پارلیمنٹ جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے کی 120 نشستوں کے لیے 26 سیاسی جماعتیں کے امیدوار میدان میں ہیں۔

وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جماعت کو لکد زائنسٹ (صیہونی) یونین پارٹی کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ان انتخابات میں حصہ لینے والے اہم اسرائیلی سیاستدانوں پر ایک نظر۔

بنجمن نیتن یاہو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیتن یاہو 2009 سے ملک کے وزیرِاعظم ہیں

بنجمن نیتن یاہو ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور 2009 سے مختلف سیاسی اتحادوں کے نتیجے میں ملک کے وزیرِاعظم ہیں۔ وہ اس سے پہلے 1996 سے 1999 تک بھی ملک کے وزیرِاعظم رہ چکے ہیں۔

2014 کے آخر میں دوسری جماعتوں سے ان کے اتحاد کا خاتمہ ان انتخابات کی وجہ بنا اور کئی سالوں میں پہلی بار ان کی حکمرانی کو بائیں بازوں کی جماعتوں کے اتحاد کی شکل میں ایک حقیقی خطرے کا سامنا ہے۔

1949 میں ایک سیاسی خاندان میں پیدا ہونے والے نیتن یاہو نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال امریکہ میں گزارے اس لیے ان کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اچھی انگریزی بولنے کی وجہ سے ہی انھیں 80 کی دہائی میں واشنگٹن میں اسرائیل کا سفیر لگایا گیا۔

اسحاق ہرزوگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اسحاق ہروزگ کا شمار نیتن یاہو کے شدید ناقدین میں ہو تا ہے

اسحاق ہرزوگ کا تعلق بھی سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد چیم دس سال تک اسرائیل کے صدر رہے اور ان کے چچا ایبا ایبن 60 اور 70 کی دہائی میں ملک کے وزیرِخارجہ رہ چکے ہیں۔

ہرزوگ 1960 میں پیدا ہوئے اور پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ 2005 سے 2011 کے درمیان وہ مختلف وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

ان کی جماعت لیبر اور وہ خود نیتن یاہو کی لکد جماعت کی پالیسیوں کے شدید ناقد ہیں۔

اسحاق ہرزوگ نے نیتن یاہو پر فلسطین کے مسلے کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔

ان کی جماعت نے ان انتخابات میں ہتنو جماعت کے ساتھ مل کر حصہ لے رہی ہے اور ان کے اتحاد کو زائنسٹ یونین کہا جاتا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق زائنسٹ یونین کو لکد پر معمولی برتری حاصل ہے۔

زپی لیونی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زپی لیونی کو یورپی اور امریکی ہلکوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے

زپی لیونی زائنسٹ یونین کی شریک رہنما ہیں۔

نیتن یاہو اور ہرزگ کی طرح زپی لیونی کا تعلق بھی ایک ممتاز اسرائیلی سیاسی خاندان سے ہے۔

ان کے والد برطانیوی راج کے دور میں قوم پرست مسلح گروپ ارگون کے اہم رہنما تھے اور بعد می وہ لکد جماعت کی جانب سے الیکشن جیت کر کنیسٹ کے ممبر بھی بنے۔

1958 میں پیدا ہونے والی زپی لیونی پہلے لکد جماعت سے وابستہ تھیں لیکن اب وہ اعتدال پسند جماعت ہتنو کی رہنما ہیں۔

زپی لیونی کو یورپی اور امریکی ہلکوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔

یائر لاپد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تجزیہ کاروں کے مطابق یائر لاپد کی جماعت انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی

لاپد اگرچہ مشہور صحافی ہیں لیکن ان کے والد بھی سیاست سے منسلک تھے۔ ان کے والد کی جماعت شنوئی بھی اقتدار میں رہ چکی ہے اگرچہ اب اس کی سیاسی موت واقع ہوچکی ہے۔

1963 میں پیدا ہونے والے لاپد نے 2012 میں یش آتد نامی اپنی جماعت بنائی اور 2013 کے انتخابات میں ان کی جماعت حیران کن طور پر 19 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

2014 میں وزارت کے عہدے سے فارغ کیے جانے سے پہلے وہ نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کا حصہ تھے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وہ ان کی جماعت ان انتخابات میں 19 تو نہیں پر پھر بھی کچھ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

موشے کہلون

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption موشے کہلون کی جماعت کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے

موشے کہلون بھی نیتن یاہو کی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں لیکن ان انتخابات میں وہ اپنی نئی جماعت کولانو کے سربراہ کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔

1960 میں پیدا ہونے کہلون کا خاندان لیبیا سے ہجرت کرکے اسرائیل آیا تھا۔

2014 میں بنائی جانے والی ان کی جماعت کولانو کے منشور کا سب سے اہم نکتہ لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں کولانو کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایمن اودھا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹی وی مباحثوں کے بعد ان کی مقبولیت میں خاصہ اضافہ ہوا ہے

انتخابات ایک حیران کن پہلو عرب جماعتوں کی اکثریت والے اتحاد کی جانب سے کنیسٹ میں نشستیں جیتنا ہو سکتا ہے۔

ہادیش جماعت کے سربراہ ایمن اودھا اس اتحاد کے بھی سربراہ ہیں۔ایمن 1974 میں پیدا ہوئے اور پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔

حالیہ ٹی وی مباحثوں کے بعد ان کی مقبولیت میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔

یہ اتحاد نشستیں جیتنے کے باوجود فلسطنیوں سے یک جہتی کے طور پر کسی مخلوط حکومت کا حصہ نہیں بنے گا۔

نفتالی بینیٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نفتالی بینیٹ غیر قانونی آبادی کاری کے حامی ہیں

نفتالی نینیٹ یہودی مذہبی سیاسی جماعت جیوئش ہوم یعنی یہودیوں کا گھر کے سربراہ ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان انتخابات میں بھی ان کی جماعت تقریباً 12 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

1972 میں پیدا ہونے والے نفتالی کا خاندان امریکہ سے ہجرت کر کے اسرائیل آیا تھا۔

نفتالی بینیٹ غیر قانونی آبادی کاری کے حامی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر نیتن یاہو کی جماعت لکد نے مخلوط حکومت بنائی تو وہ ہر حال میں اس کا حصہ ہوں گے۔

اسی بارے میں