آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے

شمالی کوریا کے فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی کوریا کی قلعہ نما سرحد سے بچنے کے لیے اکثر منحرف چین کے ذریعے جنوبی کوریا داخل ہوتے ہیں

شمالی کوریا سے جنوبی کوریا آنے والے افراد اپنے آپ کو انتہائی مقروض بنا رہے ہیں۔ اس کی وجہ وہ پیسہ ہے جو انھوں نے انسانی سمگلروں کو جنوبی کوریا لانے کے لیے دیا ہے۔

چوزن البو اخبار کے مطابق اگرچہ جنوبی کوریا کی حکومت پناہ گزینوں کو آبادکاری پروگرام کے تحت گرانٹ دیتی ہے لیکن زیادہ تر پناہ گزینوں نے ان دلالوں کو بہت پیسے دینے ہوتے ہیں جنھوں نے ان کی شمالی کوریا سے نکلنے میں مدد کی تھی۔

کوریا کی ہانا فاؤنڈیشن کے مطابق جو شمالی کوریا سے آنے والوں کی آباد کاری میں مدد کرتی ہے، بہت سے پناہ گزین دماغی امراض کا بھی شکار ہیں۔ شمالی اور جنوبی کوریا کی انتہائی قلعہ بند سرحد کی وجہ سے شمالی کوریا سے بھاگنے والوں کو چین کے ساتھ سرحد عبور کرنے کے بعد جنوبی کوریا جانا پڑتا ہے، جن میں سے کئی چینی حکام کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور بعد میں انھیں شمالی کوریا کے حکام کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے اکثر لوگ سرحد عبور کرنے کے لیے دلالوں کو پیسے دیتے ہیں جو کہ جنوبی کوریا کی چھ ملین وان یعنی 5,300 ڈالر کی گرانٹ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

تین افراد کے ایک خاندان نے اخبار کو بتایا کہ 18 ملین وان کی گرانٹ بھی ان کو قرض سے نہیں نکال رہی اور وہ دھیرے دھیرے اس میں پھنستے جا رہے ہیں۔ ابھی بھی انھوں نے دلالوں کو 10 ملین وان دینے ہیں۔

خاندان کے فرد کم یونگ می نے اخبار کو بتایا ’میں سمجھا تھا کہ یہاں میری زندگی ڈراموں کے کرداروں کی طرح ہو گی جہاں ہر کوئی خوش رہتا ہے، لیکن ہناون (آباد کاروں کے سینٹر) سے باہر نکلتے میں نے اپنے آپ کو ٹھوڑی تک قرض میں پایا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میں نے اسے کس طرح واپس کرنا ہے۔‘

ان میں سے اکثر قرض اتارنے کے لیے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ وومن ایسوسی ایشن فار دی فیوچر آف کوریئن پیننسولا کی نام یونگ ہوا نے اخبار کو بتایا کہ اکثر لوگ دلالوں کو بغیر کچھ سوچے سمجھے پیسے پکڑا دیتے ہیں۔ ’جب وہ یہاں پہنچتے ہیں تو ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کیا کر دیا ہے۔۔۔ اس سے اکثر جسمانی اور جذباتی تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔‘

کوریا کی ہانا فاؤنڈیشن کے مطابق شمالی کوریا کے تقریباً 20 فیصد منحرف افراد کو خود کشی کرنے کا خیال بھی آتا ہے، جو کہ جنوبی کوریا کی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے۔ ایجنسی کے مطابق بہت سے افراد اپنے فرار کے واقعات سے جذباتی دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں اور ان میں اپنے خاندان والوں کو پیچھے چھوڑنے کا ایک حد تک احساسِ جرم بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں جنوبی میں امتیازی سلوک اور اکیلے پن کا بھی دباؤ رہتا ہے۔

اسی بارے میں