’اسیر ہوں شکست خوردہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نورالایزہ انور نے اپنی گرفتاری کا اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرتے ہوئے لکھا کہ: ’آزاد ملائشیا کے لیے لڑو۔اللہ اکبر۔اسیر ہوں شکست خوردہ نہیں‘۔

ملائشیا میں حزبِ اختلاف کے مقیّد رہنما انور ابراہیم کی بڑی بیٹی کو مبیّنہ شر انگیزی کے الزام میں گرفتار کر لیاگیا ہے۔

نورالایزہ انور اپنے والد کی ’پی کے آر‘ پارٹی کی نائب صدر بھی ہیں اور انہیں پارلیمان میں گزشتہ ہفتے انور ابراہیم کی سزا پر عدلیہ کے خلاف ایک تنقیدی تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

گزشتہ مہینے اغلام بازی کیس میں اپیل خارج ہونے کے بعد انور ابراہیم کو جیل میں ڈال دیاگیا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ملائشیا کی حکومت شر انگیزی کے قوانین کو اختلافِ رائے رکھنے والوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

پارلیمان میں تقریر کے دوران نورالایزہ انور نے اپنے والد کے ایک بیان سے چند اِقتباسات پڑھے جن میں انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات اور عدالتی کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے ملائشیا کے عدالتی نظام کی آزادی پر سوالات اٹھائے تھے۔

حزبِ اختلاف کی سیاست میں نورالایزہ انور ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں اور کئی لوگ انہیں انور ابراہیم کے جانشین کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے اپنی گرفتاری کا اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرتے ہوئے لکھا کہ: ’آزاد ملائشیا کے لیے لڑو۔اللہ اکبر۔اسیر ہوں شکست خوردہ نہیں‘۔

خبر رساں ویب سائٹ ’ملایشیا انسائڈر‘ کے مطابق نورالایزہ انور کی گرفتاری ان کی تقریر کے خلاف ایک اور سیاستدان کی جانب سے دائر کی گئی پولیس رپورٹ کے بعد عمل میں لائی گئی۔

ملائشیا میں ممبران کو پارلیمانی استحقاق حاصل ہے جس کے تحت پارلیمان میں دیےگئے بیانات پر وہ سِول یا کرمنل کاروائی سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نجیب رزّاق نے سنہ 2012 میں کئی عوامی ریلیوں اور مظاہروں کے بعد وعدہ کیا تھا کے وہ برطانوی نوآبادیاتی دور سے رائج شر انگیزی سے متعلق قوانین کو ختم کر دیں گے۔

تاہم گزشتہ سال اپنے وعدے سے مکرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ قوانین موجود رہیں گے اور ان میں مزید سختی کی جائے گی۔

گزشتہ برس کے دوران ان قوانین کے تحت نشانہ بننے والے حکومت کے ناقدین اور حزبِ اختلاف کے سیاستدانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں