ایل سالویڈور: بچیوں پر سکول پرنسپل کے جنسی تشدد کے کیس نے معاشرے کو ہلا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

شمالی امریکہ کے ملک ایل سلواڈور میں ایک سکول پرنسپل کے مبینہ بدسلوکی اور ریپ کے واقع کو انٹرنیٹ پر شیئر کیا جا رہا ہے جس نے وہاں کے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق ایل سلواڈور کا شمار دنیا کے ان بدترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں بچوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔

سکول پرنسپل کے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے اس واقع کا علم اقوام متحدہ کے ادارے یونی سیف کے لیے کام کرنے والے ایک ماہرِ بشریات یوان جوز مارٹینز کو تب ہوا جب وہ جرائم پیشہ گروہوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر ریسرچ کر رہے تھے۔

مارٹینز کا کہنا ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک سکول کے پرنسپل کھلے عام 12 سالہ لڑکیوں کے ساتھ ریپ اور بدسلوکی کرتے تھے اور لڑکوں کے ساتھ بھی پر تشدد رویہ اختیار کرتے تھے۔

تاہم ان کے اس الزام کی کسی آزاد ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیونکہ یہ سکول جرائم پیشہ گروہوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں ہے اور وہاں تک رسائی بہت مشکل ہے۔

سلواڈور کے لوگوں کا غصہ اس واقع پر کم اور انتظامیہ کی غفلت اور بےبسی پر زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر اپنے ایک آرٹیکل میں مارٹینز نے لکھا کہ انھوں نے انتظامیہ کو اس واقع کی اطلاع دینے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ :’مجھے زیادہ حیرانی ان اداروں کے رویے پر ہوئی جن کا کام اس طرح کے تشدد کا خاتمہ کرنا ہے خاص طور پر یونی سیف۔‘

اقوامِ متحدہ کے ادارے ایل سلواڈور میں کافی عرصے سے موجود ہیں لیکن ان کا سکولوں پر کسی قسم کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہے۔ یہ ادارے وہاں کی مقامی انتظامیہ اور اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

یونیسیف نے ماٹینزکو اس واقع کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ کس طرح اسے پیش کریں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ ان سے مایوس ہو چکے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا ’ میرا یہ خیال تھا کہ میرے مقابلے میں یونی یف جیسے اداروں کی آواز زیادہ دور تک پہنچ سکتی ہے۔‘

یونیسف کے مقامی نمائندے جانتھن لوئس نے کہا کہ مارٹینز یقیناً ان کے پاس آئے تھے اور انھوں نے ان کو متعلقہ اداروں کی فہرست فراہم کی تھی۔ جس کے بعد مارٹینز حکومتی اداروں کے پاس گئے اور ان کو اس کے بارے میں آگاہ کیا لیکن کسی نے ان کی ایک نہ سنی۔

مارٹینز نے انتظامیہ کے اس غیر سنجیدہ رویے پر مایوس ہوکر ایک آن لائن جریدے ’فیکٹم‘ میں یہ انکشاف کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ادھم مچ گیا۔

سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک پر مرنا ہرتاڈو کا اس آرٹیکل پر لکھا کہ ’ اس طرح کے واقعات دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے لیکن آپ کچھ نہیں کر سکتے۔‘

ایل سلواڈور میں بچوں کے انسانی حقوق کی اٹارنی مارگریٹہ ڈی گوارڈاڈو نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ان کو مارٹینز کا آرٹیکل پڑھنے کے بعد اس واقع کا علم ہوا ہے۔

تاہم انھیں مارٹینز کی ابتدائی شکایت کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

مارٹینز عوامی ردِعمل دیکھ کر خوش ہیں لیکن کہتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے خوشحال طبقے سے اس طرح کے رد عمل کی امید نہیں کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اونچے طبقے کی اس واقع پر حیرت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پس ماندہ اور غربت زدہ علاقوں کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔