بے وفائی پر اکسانے والی آن لائن سائٹ کو مقدمے کا سامنا

گلیڈین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گلیڈین کے اشتہار میں شادی شدہ جوڑوں کو بے وفائی کی طرف رغبت دی گئی ہے

شادی شدہ جوڑوں کو ٹارگٹ کرنے والی ایک آن لائن ڈیٹنگ سائٹ پر قانون توڑنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

اب فرانس میں ایک عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا واقعی یہ کمپنی جوڑوں کی غیر قانونی طور پر حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کو دھوکہ دیں۔

کیا کسی ڈیٹنگ ویب سائٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ بدکاری بڑھائے جب فرانس کے سول قانون میں شادی میں مخلص رہنے کا ذکر ہے۔

یہی وہ سوال ہے جس کے تحت فرانسیسی کمپنی گلیڈین کے خلاف مقدمہ کیا جا رہا ہے۔ کمپنی اس بات پر اتراتی ہے کہ وہ شادی شدہ خواتین کو شادی سے باہر روابط بنانے میں مدد کرنے والی دنیا کے سب سے سرکردہ کمپنی ہے۔

اس کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں لگائے گئے ایک جذبات بھڑکانے والے اشتہار کی خصوصاً مخالفت کی جا رہی ہے اور ایسوسی ایشن آف کیتھولک فیمیلیز (اے سی ایف) نے اس پر ایک سول کیس فائل کر کے سائٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ یہ اس دور میں عجیب لگے لیکن فیملی لا کے وکیل سمجھتے ہیں کہ اے سی ایف کے جیتنے کے امکانات خاصے زیادہ ہیں، کیونکہ فرانس کے قانون میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ وفادار رہنا شادی کا اہم جز ہے۔

فرانس میں سب قوانین کی بنیاد لکھے ہوئے کوڈز ہیں جیسا کہ پینل کوڈ، لیبر کوڈ، کمرشل کوڈ وغیرہ وغیرہ، جن میں پارلیمان ترمیم کر سکتی ہے۔ ججوں کو آزادی ہے کہ ان کوڈز کی تشریح کریں لیکن ان کے پاس برطانیہ کے قوانین کی طرح گنجائش اتنی زیادہ نہیں ہے۔

سول کوڈ کا آرٹیکل 212 کہتا ہے کہ ’شادی شدہ افراد کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عزت کریں، مخلص رہیں اور ایک دوسرے کی دستگیری اور مدد کریں۔‘

ایسوسی ایشن آف کیتھولک فیمیلیز کے صدر ژاں میری آندرے کہتے ہیں کہ بہت سی ویب سائٹیں ہیں جو افراد کے درمیان جنسی تعلقات کو بڑھانے کی تشہیر کرتی ہیں لیکن جو چیز گلیڈین کو منفرد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ شادی میں بے وفائی ہی اس کے بزنس ماڈل کی بنیاد ہے۔

’یہ صاف طور پر کہتی ہے کہ یہ شادی شدہ عورتوں کو مواقع مہیا کرتی ہے کہ وہ شادی سے باہر سیکس کر سکیں۔‘

لیکن فرانس میں عوام اور پارلیمان اس بات پر متفق ہیں کہ شادی ایک عوامی وابستگی ہے۔ یہ قانون میں ہے۔ ’جو ہم یہاں، اس مقدمے میں، دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ سول کوڈ، اس قانون، کا ایک مطلب ہے۔‘

گلیڈین اس الزام پر کوئی پس و پیش نہیں کرتی کہ اس کا نشانہ شادی شدہ خواتین ہیں۔ بلکہ شادی شدہ خواتین اس کا سیلنگ پوائنٹ ہیں۔

گلیڈین کے اشتہارات میں کہا گیا ہے کہ دھوکہ دینے کی اجازت ہے اور اس میں مزہ بھی۔ اور یہی بات ہے جس نے اعتدال پسندوں اور کیتھولکس کو ڈرا دیا ہے۔

2009 میں بنائی جانے والی اس ویب سائٹ کے یورپ میں 23 لاکھ ممبر ہیں جن میں سے دس لاکھ صرف فرانس میں ہیں۔ اس کے چھوٹے آپریشنز امریکہ اور دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فرانس کے قانون کے مطابق اس طرح کی حوصلہ افزائی کو شادی کے قانون کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے

گلیڈین ماڈل کے تحت عورتیں سائٹ پر رجسٹر ہونے کے پیسے نہیں دیتیں۔ مرد کریڈٹ خریدتے ہیں اور اس طرح ان کی رجسٹرڈ خواتین تک رسائی کے مختلف لیولز تک پہنچ ہوتی ہے۔ اگرچہ درست معلومات کا حصول بہت مشکل ہے لیکن گلیڈین کے مطابق اس کے 80 فیصد صارف شادی شدہ ہیں۔

پیرس کی رہنے والی 44 سالہ مارگوٹ بھی اس کی صارف ہیں۔ وہ کئی برسوں سے شادی شدہ ہیں لیکن وہ جنسی طور پر مطمئن نہیں۔ لیکن وہ اپنے شوہر کو چھوڑنا نہیں چاہتیں۔

’میں نے گلیڈین کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہ شادی شدہ لوگوں کے لیے ہے۔ اس کا مطلب کہ آپ جس شخص سے ملیں گے وہ آپ کے حالات جانتا ہو گا۔ یہاں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔ ہم کھلم کھلا اپنے شوہروں، بیویوں اور بچوں کے متعلق بات کر سکتے ہیں۔‘

’اور چونکہ ہم دونوں شادی شدہ ہوتے ہیں، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم صرف اس تعلق میں کس حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ آسان ہے کہ چیزیں پیچیدہ نہ ہوں۔ ہم ایک دوسرے کی نجی زندگی کا احترام کرتے ہیں۔‘

لیکن مارگریٹ یہ ضرور تسلیم کرتی ہیں کہ وہ گلیڈین کے ذریعے جتنے بھی مردوں سے ملی ہیں وہ نچلے درجے کے ہی ثابت ہوئے۔ تقریباً سبھی جھوٹے تھے۔‘

اور وہ اس بات کو بھی سمجھتی ہیں کہ لوگوں کو ویب سائٹ سے اتنا دھچکہ کیوں لگتا ہے۔

’بھئی دیکھیں یہ بے وفائی کی تشہیر کرتی ہے۔ حقیقت میں یہ بے وفائی بیچ رہی ہے۔ یہ اس سے پیسے کما رہی ہے۔ لوگ اس کے اشتہارات دیکھ کر آسانی سے اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔‘

گلیڈین کی ترجمان سولین پیلٹ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس بہت سے گاہک ہے جو کہتے ہیں کہ ایک خفیہ باغ کی دستیابی نے ان کی شادی کو ٹوٹنے سے بچایا ہے۔‘

لیکن ان کی دلیل بولنے کی آزادی ہے۔ ’ہم نے زنا کاری ایجاد نہیں کی۔ زنا کاری یہیں ہوتی چاہےو ہم ہوتے یا نہ ہوتے۔‘

لیکن وکلا کا کہنا ہے کہ اے ایف سی کا مقدمہ غیر سنجیدہ نہیں ہے۔ آرٹیکل 212 کے پاس قانونی طاقت ہے۔

خاندانی قانون کے ماہر سٹیفنی ویلری کہتے ہیں کہ مقدمے کی بنیاد مضبوط ہے۔ ’یہ ممکن ہے کہ اس بات کی دلیل دی جائے کہ شادی شدہ افراد کے درمیان تعلقات قائم کر کے گلیڈین جوڑوں کو اپنا شہری فریضہ ادا نہ کرنے پر اکسا رہی ہے۔‘

لیکن اس کا فیصلہ اب جج کریں گے۔

اسی بارے میں