چین اور جاپان کے متنازع جزائر پر مذاکرات

چین اور جاپان کے نائب وزیرِ خارجہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے

چین اور جاپان علاقائی اور تاریخی مسائل پر تناؤ کے بعد پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہے ہیں۔

ٹوکیو میں ہونے والی میٹنگ سنیچر کو جنوبی کوریا کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات سے قبل ہوئی ہے۔

آخری مرتبہ مذاکرات 2011 میں ہوئے تھے اور اس کے بعد ایسٹ چائنا سی میں جزیروں کے تنازع کے بعد تعلقات بگڑ گئے تھے۔

چین اس بات کا بھی دعویٰ کرتا ہے کہ جاپان دوسری جنگِ عظیم کی جارحیت کا مناسب طریقے سے کفارہ ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

لیکن بیجنگ میں بی بی سی کی نامہ نگار سیلیا ہیٹن کہتی ہیں کہ آہستہ آہستہ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور میٹنگ کے ایجنڈے میں سب سے اوپر ’میری ٹائم کمیونیکیشن ہاٹ لائن‘ قائم کرنا ہے۔

اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ متنازع جزیروں کے گرد گشت کرنے والے چین اور جاپان کے نیم فوجی جہازوں کے درمیان کسی حادثے یا کسی اور وجہ سے ٹکراؤ اس لڑائی کو بڑھا سا سکتا ہے۔

جاپان کے نائب وزیرِ خارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں فریق امید کرتے ہیں کہ وہ خصوصاً ایک دوسرے کی دفاع کی پالیسی کے پیچھے سوچ اور نیت پر بات کریں۔

ان کے ہم منصب چین کے اسسٹنٹ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ دونوں ممالک ’ایسی سوچ اپنائیں جس سے وہ تاریخ کا ایمندارانہ طریقے سے جائزہ لیں اور مستقبل کی طرف دیکھیں۔‘

آٹھ متنازع غیر آْباد جزیروں کا کل رقبہ سات کلو میٹر ہے۔ یہ انتہائی اہم جہازی راستوں کے قریب ہیں اور یہاں کے پانیوں میں مچھلیاں بھی وافر مقدار میں ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہاں تیل کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ ان جزیروں کو جاپان کنٹرول کرتا ہے۔ چین کہتا ہے کہ قدیم وقتوں سے یہ جزائر اس کی ملکیت رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تائیوان بھی ان پر اپنا حق جتاتا ہے۔

جمعرات کی میٹنگ کو حالیہ وقتوں میں تعلقات میں بہتری لانے کے عمل کی ایک کڑی کہا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں