شیرنی کا پیار

تصویر کے کاپی رائٹ TAUANA FILMS
Image caption گرئینر نے سِرگا نامی شیرنی کو اس وقت گود لیا جب وہ دس دن کی تھی

یہ سنہ 2012 کی بات ہے جب ویلینٹن گروئنر نامی شخص نے شیر کے ایک چھوٹے سے بچے کی جان بچائی اور پھر جنوبی افریقہ کے ملک بوٹسوانا میں جانوروں کے ایک پارک میں اس کی پرورش کی۔

یہ ایک غیرمعمولی تعلق کا آغاز تھا۔ اب جب بھی یہ دونوں ملتے ہیں تو ایک حیران کردینے کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے، یہ شیرنی انھیں پیار سے اپنے ساتھ لپٹا لیتی ہے۔

گروئنر بتاتے ہیں کہ تین برس پہلے جب سے شیرنی آئی ہے، میں حقیقی معنوں میں کبھی کیمپ سے باہر نہیں گیا۔‘

وہ بتاتے ہیں کبھی کبھار اگر وہ باہر جائیں بھی تو صرف ایک دن کے لیے قریبی قصبے میں اپنے کام کاج کے لیے جاتے ہیں ورنہ وہ تمام وقت شیرنی کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔

شیر کے اس مادہ بچے کو سِرگا کا نام دیا گیا۔ گروئنر کو یہ ایک ایسے کسان سے ملی تھی جو اپنے مویشیوں کو بچانے کے لیے جنگلی جانوروں کو مار مار کر تنگ آچکا تھا اور اب اس نے شیروں کو پنجرے میں ڈال رکھا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’شیروں نے پنجرے میں موجود تین میں سے دو بچوں کو مار دیا تھا اور شیرنی نے تیسرے بچے کو لاوارث چھوڑ دیا، وہ (سِرگا) بہت چھوٹی تھی شاید دس دن کی۔‘

شیروں کو پنجرے میں قید کرنے والے کسان ویلے ڈی گراف بتاتے ہیں کہ انھوں نے سِرگا کو بچانے کے لیے گروئنر سے درخواست کی جو اسے جنگلی جانوروں کے لیے ڈی گراف کی معاونت سے چلنے والے پارک میں لے گئے۔ یوں گروئنر نے سِرگا کو گود لے لیا۔

’وہ اسے خوراک کھلاتا ہے اور اور اس کا خیال رکھتا ہے۔‘

’ایک چھوٹا سا خوبصورت جانور آپ کے ساتھ بیٹھا ہواور جو غصے کا تیز بھی ہو۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ اب یہ اپنی جسامت میں دس گنا زیادہ بڑی ہو چکی ہے اور آپ ہی نے اس کی دیکھ بھال کرنی ہے۔

لیکن جیسے ہی گروئنر اس کا پنجرہ کھولتے ہیں وہ اب بھی پہلے کی طرح ان سے ملنے کے لیے دوڑ کر آتی ہے اور خوشی سے اپنے پنجوں کو ان کی گردن کے گرد لپیٹ لیتی ہے۔

’ہر بار جب میں دروازہ کھولتا ہوں تو یہی ہوتا ہے۔ یہ حیران کن عمل ہر بار ہوتا ہے۔ مجھ پر چھلانگ لگانا اور میرے گلے لگنا، یہ اس جانور کا پرجوش اظہار ہے۔‘

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ شاید سِرگا انھیں اپنے جیسا ہی شمار کرتی ہیں۔ کیونکہ ان کے پنجرے میں کوئی دوسرا شیر یا اس کا بچہ نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس کا اکلوتا دوست ہوں، شیر سماجی جانور ہوتے ہیں، اس لیے وہ جب بھی مجھے دیکھتی ہے خوش ہوتی ہے۔‘

سرگا اور گروئنر بوٹسوانا کے جنگل میں ایک ساتھ اکٹھے وقت گزارتے ہیں۔ کبھی وہ بلی جیسی حرکتیں کر کے لطف اندوز ہوتے ہیں کبھی درختوں کے نیچے لیٹ کر، شکار کر کے یا ایک دوسرے کو زخمی کیے بغیر ایک دوسرے سے کشتی لڑ کے۔

گروئنر کا خیال ہے کہ انھیں سرگا کو شکار کی مہارت سکھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس میں دیگر پالتو جانوروں کی طرح یہ صلاحیت قدرتی طور پر موجود ہے۔

’شیر جب بڑا ہو جائے تو خود ہی بارہ سنگھے کو پکڑ لیتا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ہفتے میں تین بار وہ کچھ دیر کے لیے سِرگا کو شکار کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ’ہر بار چہل قدمی میں پانچ گھنٹے لگتے ہیں اور کبھی کبھی نو سے اوپر۔ ہم ایک طرح سے اکٹھے ہی شکار کرتے ہیں اور میں کبھی کبھی اس کی مدد کرتا ہوں اور اسے یہ سکھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ کسی کو پکڑنے کے بجائے اسے کیسے مارتے ہیں۔‘

گروئنر نے بتایا کہ سِرگا نے جب پہلی بار شکار کیا تو انھیں اس بارے میں اندازہ نہیں تھا کہ اس کے قریب جانا ان کے لیے محفوظ ہوگا یا نہیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور سِرگا نے انھیں اپنے ساتھ آنے دیا۔

اب وہ ان جانوروں کا شکار کرتے ہیں جنھیں شیرنی جلدی جلدی شکار نہیں کر سکتی۔

’یہ تھورا ظالمانہ ہے کیونکہ وہ کوئی بارہ سنگھا پکڑتی ہے تو اسے اسے اپنے نیچے دبا لیتی ہے، حالانکہ وہ گلے پر کاٹ کر اسے آسانی سے مار سکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ بہت دلچسپ ہوتا ہے اس لیے وہ بلی کی طرح چوہے کے ساتھ کھیلتے رہنا چاہتی ہے۔‘

لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ بہت اچھا نہیں لگتا کہ ’شیر کے سامنے بارہ سنگھا ہواور وہ اس سے کھیلے۔‘

سِرگا کا مستقبل

ڈی گراف نے گروئنر کو تقریباً دو کلومیٹر کا علاقہ دیا ہے جسے میں سِرگا کے لیے ایک چھوٹا سا پارک بنایا گیا ہے جہاں وہ آزادانہ گھوم پھر سکتی ہے۔ لیکن گروئنر کہتے ہیں کہ اسے جنگل میں نہ چھوڑا جائے، اس لیے نہیں کہ وہ وہاں رہ نہیں پائے گی بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کے خوف سے آزاد ہو چکی ہے۔

انھیں خدشہ ہے کہ اگر وہ کسی انسان کے بہت قریب چلی گئی اور اگر کوئی حادثہ ہو گیا تو اسے مار دیا جائے گا۔ گروئنر کہتے ہیں کہ اس پارک میں سِرگا ایک جنگلی شیر کی طرح آزادانہ گھوم پھر سکتی ہے۔

لیکن اس کا مستقبل کیا ہو گا؟

گرنئیر اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری اب تک سِرگا کی پرورش کی وجہ سے پوری نہیں کر پائے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ’اگر اسے کسی بڑے احاطے میں چھوڑ دیا جائے جہاں اس کے ساتھ ایک اور شیر بھی موجود ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ میں اسے زیادہ وقت کے لیے چھوڑ سکوں گا، جس کی مجھے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے ضرورت ہے۔‘

مگر ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ترجیح سِرگا کی ضرورت ہے اور جب تک وہ محسوس کرتے ہیں کہ کہ اسے ان کی ضرورت ہے وہ اس کے ساتھ ہی رہیں گے۔

’ میرا خیال نہیں کہ سِرگا اور میرے درمیان کچھ زیادہ بدلے گا۔‘

اسی بارے میں