’مستقبل بدلنے کے لیے دہائیوں بعد ایک بڑا موقع ملا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ v
Image caption جس مستقبل کی تلاش ہے اس کے لیے ہمیں اکھٹے ہو کر کھل کر بولنا ہوگا: براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے ایرانی عوام سے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنے باہمی تعلقات کی شکل بدلنے کے لیے ایک بڑا موقع ملا ہے اور انھیں ایک مختلف مستقبل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

براک اوباما نے یہ تجویز جمعے کو ایرانی حکومت اور عوام کے نام نئے ایرانی سال کے آغاز پر منائے جانے والے تہوار ’نوروز‘ کے تہنیتی پیغام میں دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں میں ہمارے پاس یہ موقع آیا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ممالک کے لیے ایک مختلف مستقبل کے حصول کے لیےکوشش کریں۔

خیال رہے کہ اس وقت دنیا کی چھ عالمی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ اس معاہدے کے لیے طے کی گئی مہلت میں صرف 12 دن باقی رہ گئے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے ویڈیو پیغام میں تسلیم کیا کہ اس وقت ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات میں کسی حد تک خلا موجود ہے تاہم انھوں نے اس امید کا اظاہر بھی کیا کہ اسے پر کر لیا جائے گا۔

انھوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو مسئلے کے حل کے لیے ملنے والے ’ایک تاریخی موقع کو کھونا نہیں چاہیے۔‘

براک اوباما نے کہا کہ ایران کے رہنماؤوں کی ایک مناسب معاہدے پر رضامندی کی صورت میں ایران خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے اور اگر معاہدہ طے نہ پایا تو اس کے نتیجے میں ایران تنہا ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ ایران کی جانب سے کسی معاہدے پر رضامندی کے باوجود براک اوباما کو ابھی ممکنہ معاہدے کی خاصیت کی بِنا پر امریکی کانگرس کو اس کے لیے قائل کرنا ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بہت سے امریکی قانون ساز ایران پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز پر ریپبلکن پارٹی کے 47 سینیٹرز نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل صدر اوباما کی صدرارت کی مدت پوری ہوتے ہی ختم ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے ساتھ گفتگو میں ایک نامعلوم امریکی افسر نے بتایا کہ طویل عرصے سے ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے جاری مذاکرات میں ایران کو اس بات پر رضامند کیا جائے گا کہ وہ ایٹمی بم بنانے کے لیے موجود مشینوں کی تعداد میں 40 فیصد کمی کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران اس بات پر اصرار کرتا چلا آرہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے

اس کے بدلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر بیرونی ممالک سے ہتھیاروں کی خریدوفروخت پر عائد پابندیوں اور اقتصادی پابندیوں کو کم کیا جائے گا۔

لیکن جمعرات کو امریکی صدر کو 360 ارکینِ کانگرس کا دستخط شدہ خط موصول ہوا ہے جس میں انھیں بتایا گیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کانگرس کو نئی قانون سازی کرنا ہوگی۔

ایران اس بات پر اصرار کرتا چلا آرہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم بین الاقوامی برادری اس خدشے میں ہے کہ ایران جوہری ہھتیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اہم نکات جن پر سوچا جا رہا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کس انداز سے ایران پر عائد پابندیوں کو اٹھایا جائے گا اور کتنے عرصے تک یہ معاہدہ قائم رہے گا اور یہ بھی کہ ایران اپنے جوہری پلانٹس کی معائنہ کاری کس حد تک کروائے گا۔

جمعرات کو سوئٹزرلینڈ میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اپنے ایرانی ہم منصب محمد جاوید ظریف سے مسلسل چوتھے روز ملاقات کی۔

امریکہ سمیت چین، روس، برطانیہ، جرمنی اور فرانس پرامید ہیں کہ وہ 31 مارچ تک ایران کے ساتھ ایک بنیادی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں