یمن میں حوثی قبائلیوں کی مساجد پر خودکش حملے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دھماکوں کے وقت مساجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی

یمن میں حکام کے مطابق دارالحکومت صنعا میں حوثی قبائلیوں کی دو مساجد پر ہونے والے خودکش حملوں میں کم از کم 126 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے خودکش دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ سال نومبر میں یمن میں اپنی شاخ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

دارالحکومت کے مرکز میں واقع مسجد بدر اور مسجدِ الحشوش پر خودکش حملے اس وقت کیے گئے جب وہاں نمازِ کی تیاری کی جا رہی تھی۔

ان مساجد کو اس وقت دارالحکومت کو کنٹرول کرنے والے زیدی شیعہ حوثی قبائل کے حامی استعمال کرتے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق شہر کے جنوب میں واقع بدر مسجد میں دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

’ایک خودکش حملہ آور مسجد میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور جب نمازیوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی تو دروازے پر ایک اور خودکش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔‘

الجزیرہ ٹی وی چینل کے مطابق خودکش حملے میں حوثی قبائل کے سرکردہ رہنما زید المہتواری اور امام مسجد بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

مسجدِ الحشوش میں ہونے والے خودکش دھماکے میں بچ جانے والے ایک شخص محمد ال انسی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ دھماکے کی شدت سے وہ چھ فٹ دور اچھل کر گر پڑے۔

’مسجد کے فرش پر انسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے اور لاشیں پڑی ہوئیں تھیں۔دھماکے میں زیادہ جانی نقصان مسجد میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر نمازیوں کو لگنے سے زیادہ نقصان ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دھماکے شیعہ حوثی قبائل کی مساجد میں ہوئے

یمنی دارالحکومت صنعا میں شدت پسندی کے واقعات ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایک دن پہلے ہی عدن میں صدارتی محل پر فضائی حملے کیے گئے۔ محل میں اس وقت دارالحکومت پر حوثی قبائلیوں کے حملے کے بعد مستعفیٰ ہونے والے صدر ہادی موجود ہیں۔

ان حملوں میں سابق صدر محفوظ رہے اور ان کے حامیوں نے انھیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ سابق صدر کے حامیوں کے مطابق یہ حملے آئینی طور پر قانونی حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

حوثی باغیوں نے دارالحکومت پر گذشتہ سال ستمبر پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے صدارتی محل پر قبضہ کر کے صدر ہادی کو ان کے گھر پر نظربند کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ صدر کے عہدے سے یہ کہہ کر الگ ہو گئے تھے کہ وہ دباؤ میں اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے۔

اس کے بعد چھ فروری کو باغیوں نے پارلیمان کو تحلیل کر کے ملک میں حکومت قائم کرنے کے لیے پانچ رکنی صدارتی کونسل تشکیل دی تھی۔

حوثی باغی اپنے شمالی گڑھ سے جنوب کی طرف مزید علاقہ زیرِ قبضہ لا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ یمن میں القاعدہ اور دوسرے سنی گروہوں کے مدِمقابل آ رہے ہیں۔

حوثیوں پر شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اُنھیں ایران کی حمایت حاصل ہے، تاہم دونوں اس بات سے انکار کرتے ہیں۔

اسی بارے میں