نوروز یا ایران اور امریکہ کا موسمِ بہار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مذاکرات میں وقفوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے وفد کے ہمراہ چہل قدمی کے لیے نکل جاتے ہیں

سردیوں کے بعد اب بہار۔

یہ فقرہ آج کل سوئٹزر لینڈ میں جاری جوہری مذاکرات میں ایک بڑی علامت بن چکا ہے۔

اور بات محض علامتی نہیں کیونکہ یہاں پر موجود ایرانی اور امریکی وفود کو پورا ادراک ہے کہ موجودہ ہفتہ دراصل قدیم ایرانی کیلنڈر کے سب سے بڑے تہوار ’نوروز‘ کا ہفتہ ہے۔

لیکن لگتا ہے کہ اس ہفتے جب سینیئر ایرانی اہلکار اپنے دوستوں اور عزیزوں سے نئے سال کے تحفوں کے تبادلے کے لیے تہران جائیں گے تو ان کے ہاتھ میں رنگین کاغذ میں لپٹا ہوا کوئی سیاسی تحفہ نہیں ہو گا۔

یعنی ان کے ہاتھ میں کسی ایسے منصوبے کا خاکہ نہیں ہوگا جس کے تحت ایران بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کے عوض اپنا جوہری پروگرام محدود کر دے۔

شاید اسی لیے ایرانی وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم نے نوروز کی روایتی میز ’ہفت سین‘ 19ویں صدی میں تعمیر کیے جانے والے بو رواج پیلس ہوٹل کے ایک شاندار کمرے میں سجا لی ہے۔

نوروز کے کھانوں کی میز کو عموماً سات قدیم علامات سے سجایا جاتا ہے جن کی روایت زرتشت دور سے چلی آ رہی ہے۔

آپ کو اس میز پر گندم یا جو کا ننھا پودا دکھائی دے گا جو ایک نئے جنم کی علامت ہوگا، اور اس کے علاوہ یہاں آپ کو آنے والے سال میں خوشحالی کی علامت کے طور پر روایتی میٹھا بھی دکھائی دے گا اور اچھی صحت، برداشت اور محبت کی علامات بھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس برس مشیل اوباما نے وائٹ ہاؤس میں نوروز کی تقریب کا اہتمام بھی کیا

عزت و وقار

یہاں علامتوں کا ذکر اہم ہے کیونکہ ایران کے جوہری مذاکرات میں بھی علامات کا کردار بہت بڑا ہے۔

ایران کے نقطۂ نظر سے یہ بات اہم ہے کہ ان کی ’خود فراموشی‘ کے عوض یہ نہایت ضروری ہے کہ ایران کو وہ عزت واحترام دیا جائے جس کا وہ حقدار ہے۔

ایرانی نقطۂ نظر سے اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کے کچھ حصوں سے دستبردار ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ایک قانونی حق سے دستبردار ہو رہے ہیں جو ان کے خیال میں کسی خود فراموشی سے کم نہیں۔

ایرانی کہتے ہیں کہ ایسے جوہری پروگرام سے قدرے پیچھے ہٹنے پر رضامند ہونا جو کہ مکمل غیر فوجی نوعیت کا حامل ہے، دراصل ایران کی جانب سے اپنے حق کو فراموش کرنے کے برابر ہے۔

لیکن ان مذاکرات میں شامل دوسرا فریق چیزوں کو مختلف انداز میں دیکھتا ہے۔

ویٹو کی طاقت کے حامل سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی ایک ایسے معاہدے کے خواہشمند ہیں جو ایران کے جوہری سائنسدانوں اور ان کے آلات پر ایسی حدود نافذ کر دے کہ اگر ایران ان پابندیوں کو توڑتا ہے اور یکایک ’بم‘ بنانے کی ٹھان لیتا ہے تو باقی دنیا کو اتنا وقت ضرور مل جائے کہ وہ اپنا رد عمل ترتیب دے لے۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ مذاکرات کئی سطحوں پر ہو رہے ہیں۔

کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب دونوں اطراف کے خشک مـزاج جوہری ماہرین مذاکرات کی میز پر آ بیٹھتے ہیں اور اس بات کے بخیے ادھیڑنا شروع کر دیتے ہیں کہ اصل میں ایران کی جوہری صلاحیت ہے کتنی۔

  • ایران کے یورینیم کی افزودگی کرنے والے سینٹری فیوجز کی اصل تعداد کیا ہے
  • ملک کے مختلف علاقوں میں قائم غیر فوجی جوہری تنصیبات کس قدر شفاف یا غیر شفاف ہیں
  • وہ کیا طریقے ہو سکتے ہیں جن کے تحت جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے ماہرین کو یہ اعتماد ہو جائے کہ آئندہ برسوں میں ایران کے لیے ناممکن ہو جا گا کہ وہ انھیں کسی قسم کا دھوکہ دے سکے

امریکہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں جنیوا میں پہنچے ہوئے امریکی جوہری ماہرین میں ایک شخص ایسا ہے جسے کسی جوہری پروگرام کی تکنیکی تفصیلات کا بخوبی علم ہے۔

یہ شخص کیون ویل ہیں جو کہ جوہری طبیعات کے ماہر ہیں اور نہ صرف 11 برس تک لوس الاموس کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں بلکہ شمالی کوریا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے مطابق کیون ویل دس مرتبہ شمالی کوریا جا چکے ہیں اور اس ملک میں پانچ ماہ گزار چکے ہیں جس کا جوہری پروگرام دنیا کا خفیہ ترین پروگرام سمجھا جاتا ہے۔

یوں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ حالیہ مذاکرات میں بھی مسٹر ویل ہی وہ شخص ہیں جنھیں قائل کرنا ضروری ہے کہ ایران کے ساتھ جو بھی جوہری معاہدہ ہو وہ اتنا سخت ضرور ہو کہ مسٹر ویل اسے پورے اعتماد کے ساتھ امریکہ کی سیاسی قیادت کے سامنے رکھ سکیں۔

ایسا لگتا ہے کہ مسٹر ویل ابھی اُس مقام تک نہیں پہنچے، تاہم ابھی ان کے پاس وقت موجود ہے کیونکہ سیاسی معاہدے کے پہلے ڈھانچے پر اتفاق ہو جانے کے بعد بھی مسٹر ویل کے پاس کچھ ہفتے ہوں گے جن میں وہ ایران کے ساتھ اہم تکنیکی تفصیلات طے کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوئی شک نہیں رہا کہ جان کیری اور جواد ظریف اکھٹے کام کر سکتے ہیں۔

سیاسی لڑائی

لیکن اصل چیز جو اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا جون کے آخر تک ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے میں کامیابی یا ناکامی ہوتی ہے، وہ چیز سیاسی مذاکرات ہیں۔

اس سیاسی بات چیت کا ایک اہم اور سادہ پہلو یہ ہے کہ اب تک امریکی اور ایرانی وزرائے خارجہ کتنا وقت اکھٹے گزار چکے ہیں۔

اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ جان کیری اور جواد ظریف اکھٹے کام کر سکتے ہیں۔

اس بات کا ثبوت ہمیں دونوں کی چال ڈھال سے مل جاتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنی ملاقاتوں کے موقعے پر صحافیوں کو تصویرں اتارنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور دنیا بھر کے پریس فوٹو گرافر، امریکیوں کے بقول، ان پر کیمروں کی فلیش لائیٹس کی ’بوچھاڑ‘ کر دیتے ہیں۔

تاہم کم از کم ایک صحافی ایسا ضرور ہے جس کا کہنا ہے کہ جنیوا میں جاری مذاکرات میں ’تناؤ‘ پایا جاتا ہے۔

لیکن مجھے ایسا دکھائی نہیں دیتا۔

اگرچہ مذاکرات کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، لیکن جھیل جنیوا کے ارد گرد کی فضا مثبت دکھائی دے رہی ہے۔

مذاکرات کی فضا بہت اہم ہوتی ہے، خاض طور ایسے مذاکرات میں جہاں داؤ پر لگے ہوئے معاملات بہت اہم ہوں۔

ان مذاکرات کے اختتام پر جو بھی معاہدہ ہوتا ہے اس کی تاریخی اہمیت بہت زیادہ ہو گی کیونکہ یہی وہ معاہدہ ہوگا جس سے ایران کے ساتھ آئندہ تعلقات کی راہ میں حائل بھاری دروازہ کھلے گا۔

یہ معاہدہ ایران اور دیگر دنیا، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک مکمل نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔

خدشات اپنی جگہ قائم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مشرق وسطیٰ میں ایران وہ ملک ہے جس کے پاس سب سے زیادہ بلیسٹک میزائل ہیں

امریکہ اور ایران دونوں ممالک میں ایسے لوگوں کو کمی نہیں جو ان مذاکرات کو بہت شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

براک اوباما، جنھوں نے ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے، انھیں پورا یقین ہے کہ اپنی صدارت کے اختتام پر وہ اپنے پیچھے ایک بہت بڑا تاریخی واقعہ چھوڑ کر جائیں گے۔ اور صدر اوباما ایک مرتبہ پھر نہایت پر امید دکھائی دے رہے ہیں۔

نوروز کے موقعے پر ایرانی عوام کے نام اپنے چار منٹ کے ویڈیو پیغام میں صدر اوباما نے بتایا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ مشیل کے ساتھ مل کر کیسے ’نئے سال کے لیے اپنی خواہشات کے اظہار کے لیے اپنے ہاں ہفت سین کا اہتمام کیا۔‘

’اس برس ہمیں کئی دھائیوں بعد یہ موقع نصیب ہوا ہے کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان ایک مختلف مستقبل کی جستجو کر سکتے ہیں۔‘

تاہم بظاہر اس پیغام کے جواب میں ایران کی جانب سے آنے والا پیغام زیادہ محتاط دکھائی دیتا ہے۔

وزیر خارجہ جواد ظریف نے جان کیری کو بتایا کہ فارسی میں نوروز کا مطلب نیا سال نہیں بلکہ ’نیا دن‘ ہے۔

’میری خواہش ہے کہ یہ نیا دن پوری دنیا کے لیے ایک نیا دن ثابت ہو، زیادہ اتفاق اور امن کے نئے دور کا آغاز۔‘

تاہم مسٹر ظریف نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ ’ وقت آ گیا ہے کہ اب امریکہ اور اس کے اتحادی دباؤ اور اتفاق رائے میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔‘

ایران کے ساتھ تعلقات کے موسم سرما پر شاید ابھی بہار نہیں آئی۔

اسی بارے میں