’امریکہ یمن سے اپنے آخری 100 فوجی بھی نکال رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption العند کے فوجی اڈے پر موجود امریکی فوجی القاعدہ کے خلاف لڑائی کے لیے یمنی جنگجوؤں کی تربیت میں مصروف تھے۔

یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ملک میں سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے امریکہ وہاں موجود اپنے فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھی یمن کے صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی درخواست پر ملک میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اتوار کو ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی شہر الحوثہ کے قریب واقع العند نامی اڈے پر موجود 100 فوجی واپس جا رہے ہیں جن میں خصوصی فوجی دستوں کے کمانڈوز بھی شامل ہیں۔

امریکی فوج نے اس فوجی انخلا کی تصدیق نہیں کی ہے۔

جمعے کو الحوثہ پر القاعدہ کے جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا تاہم یمنی فوج نے جوابی کارروائی کر کے انھیں شہر سے باہر دھکیل دیا تھا۔

اس کے علاوہ جمعے کو ہی یمن کے دارالحکومت صنعا میں خودکش حملوں میں کم از کم 137 افراد مارے گئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے اتحادی شدت پسندوں نے قبول کی تھی۔

یمن میں کئی حوثی باغیوں، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ سمیت متعدد مسلح گروپوں میں تناؤ بڑھ رہا ہے۔

امریکہ نے یمن میں اپنا سفارتخانہ تو فروری میں ہی اس وقت بند کر دیا تھا جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جمعے کو ہی یمن کے دارالحکومت صنعا میں خودکش حملوں میں کم از کم 137 افراد مارے گئے تھے

تاہم العند کے فوجی اڈے پر موجود امریکی فوجی القاعدہ کے خلاف لڑائی کے لیے یمنی جنگجوؤں کی تربیت میں مصروف تھے۔

ادھر حوثی باغیوں کے صنعا پر قبضے کے بعد دارالحکومت چھوڑنے والے یمن کے صدر عبدالربوہ منصور ہادی نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں باغیوں سے دارالحکومت خالی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فریقین سے کہا ہے کہ وہ امن مذاکرات کا حصہ بنیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے شمال میں حوثی باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں ’یمن کا پرچم لہرا کر رہیں گے۔‘

صدر ہادی کے اس خطاب کے فوراً بعد حوثی باغیوں نے صدر کی وفادار افواج کے خلاف عسکری سرگرمیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ یمن القاعدہ سے جڑے شدت پسند گروپ ’القاعدہ فی جزیرہ نما عرب‘ کا گڑھ ہے۔

اس کے علاوہ عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے بھی نومبر 2014 میں یہاں اڈہ قائم کر کے قدم جمانے کی کوشش کی ہے۔