عربی میں حلف وفاداری قبول نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ کی کوئی سرکاری زبان نہیں ہے

امریکہ میں ایک سکول نے بچوں سے عربی میں وفاداری کا عہد لینے پر شکایات آنے کے بعد مافی مانگ لی ہے۔

سکول کے غیر ملکی زبانوں کے شعبے نے بچوں سے ہفتے کے ہر روز مخلتف زبان میں عہد لینے کا اہتمام کیا تھا۔

سکول کے ایک اہلکار کے مطابق یہودی والدین اور افغانستان میں مارے جانے والے فوجیوں کے خاندان والوں نے اس بارے میں شکایت کی تھی۔

خیال رہے کہ نہ امریکہ اور نہ ہی نیویارک ریاست کی کوئی سرکاری زبان ہے۔

سکول کے ضلعی انچارج جون کاربون نے ٹائمز ہیرلڈ ریکارڈ اخبار کو بتایا کہ عربی میں وفاداری کے حلف نے سکول میں رائے عامہ کو تقسیم کردیا ہے، اور ہمیں اس بارے میں بہت سی شکایات ملی ہیں۔

سکول کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر کسی طالبعلم، استاد یا عوام کو اس حرکت سے تکلیف پہنچی ہے تو ہم ان سے معافی مانگتے ہیں۔ عربی میں حلف برداری کا مقصد صرف یہ دکھانا تھا کہ جو لوگ انگریزی کے علاوہ دوسری زبانیں بولتے ہیں وہ بھی اس عظیم ملک کے وفادار ہیں۔‘

واضع رہے کہ بدھ کے روز نیویارک میں واقع اس سکول میں ایک عربی بولنے والے بچے نے صبح کی اسمبلی میں اپنی مادری زبان میں امریکہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا۔

سکول حکام کے مطابق غیر ملکی زبانوں کے ہفتے کے جشن کے سلسلے میں زبانوں کے شعبے نے ہر روز مختلف زبانوں میں وفاداری کا عہد پڑنے کا اہتمام کیا تھا۔

بہت سے طالبعلموں نے اسمبلی کے دوران اور بعد میں سماجی رابطوں کی سائٹس پر اس بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

سکول کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وفاداری کا عہد صرف انگریزی زبان میں ہی لیا جائے گا۔

دوسری جانب نیویارک میں کونسل آف امیرکن اسلامک ریلیشنز کی ترجمان سادیہ خلیق کا کہنا ہے کہ ’ان تمام امریکی شہریوں کو جو ہمارے ملک میں مذہبی اور نسلی رواداری کی قدر کرتے ہیں اس ردِعمل اور مانگی جانے والی معافی کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ افغانستان کی مرکزی زبان عربی نہیں بلکہ پشتو اور درّی ہیں۔

اسی بارے میں