’نتن یاہو نے امن مذاکرات پر لوگوں کا یقین متزلزل کر دیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ v
Image caption امریکی صدر کے مطابق اسرائیل کے طویل المدتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے لوگوں کے لیے اس بات پر اعتبار کرنا مشکل بنا دیا ہے کہ فلسطین سے امن مذاکرات ممکن ہیں۔

اسرائیلی انتخابات میں نتن یاہو کی جماعت کی کامیابی کے بعد اپنے پہلے تبصرے میں امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہفنگٹن پوسٹ کو دیے جانے والے انٹرویو میں براک اوباما کا کہنا تھا امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کے طویل المدتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے۔

اپنی انتخابی مہم کے خاتمے پر نتن یاہو نے اپنے حامیوں سے یہ کہتے ہوئے ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی کہ اگر وہ منتخب ہو گئے تو فلسطینی ریاست نہیں بننے دیں گے۔

تاہم کامیابی کے بعد ایک انٹرویو میں انھوں نے یہ موقف تبدیل کیا اور کہا ’میں یک ریاستی حل نہیں چاہتا۔ میں ایک مستحکم اور پُر امن دو ریاستی حل چاہتا ہوں۔ لیکن اس کے لیے حالات کو بدلنا ہو گا۔‘

براک اوباما نے کہا کہ ’ہم انھیں ان کے اس بیان پر لیتے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کی وزاتِ عظمیٰ میں یہ (فلسطینی ریاست کا قیام) نہیں ہوگا اور اسی لیے ہمیں دیگر دستیاب مواقع کا جائزہ لینا ہے تاکہ ہم خطے میں بحرانی صورتحال نہ دیکھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption براک اوباما کے مطابق عرب اسرائیلیوں کی ووٹنگ کے بارے میں نتن یاہو کا بیان اسرائیلی روایات کے منافی تھا

امریکی صدر نے اس سوال پر تبصرے سے انکار کیا کہ آیا امریکہ اب بھی فلسطین کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ذریعے علیحدہ ریاست کے قیام کی کوششوں کو ویٹو کرے گا یا نہیں۔

براک اوباما نے بتایا کہ جمعرات کو نتن یاہو سے ٹیلیفون پر بات چیت میں انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتایا کہ ’اب وہ راستہ تلاش کرنا بہت مشکل ہوگا جہاں لوگ یہ یقین کریں کہ بات چیت ممکن ہے۔‘

صدر اوباما نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے اس بیان پر بھی ناراضی ظاہر کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’عرب اسرائیلی جوق در جوق ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بتا دیا ہے کہ اس قسم کے بیان بہترین اسرائیلی روایات کے منافی ہیں۔‘

براک اوباما نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل کا قیام یہودیوں کے ملک کے طور پر عمل میں آیا تھا لیکن اسرائیلی جمہوریت کے تحت وہاں بسنے والے تمام افراد سے برابری اور انصاف کے اصولوں کے تحت ایک جیسا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔‘

امریکی صدر کے اس بیان سے قبل وائٹ ہاؤس نے بھی اسرائیلی انتخابات کے دوران ’نفاق پیدا کرنے والے بیانات‘ پرگہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اسی بیان کی وجہ سے بن يامن نتن ياہو کی پارٹی نے حیرت انگیز طریقے سے ایک بار پھر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

اسی بارے میں