تعز شہر کے’حصے‘ شیعہ باغیوں کےکنٹرول میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن میں حوثی، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ نامی شدت پسند گروہوںاور باغیوں کا تشدد بڑھتا جا رہا ہے

یمن کے مقامی میڈیا کے مطابق سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی شیعہ باغیوں نے ملک کے تیسرے بڑے شہرتعز کے مختلف حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھی یمن کے صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی درخواست پر ملک میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر آج ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

ادھر امریکہ نے یمن میں سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے موجود اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقامی میڈیا نے ملک کے سکیورٹی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اتوار کو تعز کے ہوائی اڈے سمیت شہر کے مختلف علاقے حوثی باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

خیال رہے کہ یمن میں موجود متحارب باغی گروہوں جن میں حوثی، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ بھی شامل ہیں کا تشدد دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

تعزپر قبضہ شیعہ باغی گروہ حوثی قبائل کی جانب سے موجودہ صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی حامی فوج کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد ہوا ہے۔

یمنی صدر نے دارالحکومت سے نکل جانے کے بعد اپنے پہلے قومی خطاب میں حوثی باغیوں کو چیلنج کیا تھا۔

یاد رہے کہ تعزمیں موجود خصوصی فوج کے کمانڈر بریگیڈئئر جنرل حمود الہارتی نے ملک کے صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی حکومت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

دوسری جانب تعزمیں ہزاروں افراد نے حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف مظاہرہ کیا۔

تعزدارالحکومت صنعا اور جنوبی شہر عدن کے درمیان واقع ہے۔

اسی بارے میں