’غزہ جنگ میں اسرائیل کی عالمی قوانین کی پاسداری مشکوک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ کے خصوصی مندوب مکریم ویبی سیو نے اسرائیل پر کڑی تنقید کی ہے

اقوامِ متحدہ ایک عہدیدار کہنا ہے کہ 2014 کی جنگ کے دوران غزہ میں بڑے پیمانے پر فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں نے اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو شبے میں ڈال دیا ہے۔

اپنی سالانہ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی مندوب نے یہ بھی کہا ہے کہ 50 دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے مباحثے میں اسرائیل اور اس کا اتحادی ملک امریکہ دونوں غیر حاضر تھے۔

ماضی میں اسرائیل انسانی حقوق کی کونسل اُس کے مخالف ہونے کا الزام لگاتا رہا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے شہریوں کو بچانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے ہیں اور فلسطینی جنگجو شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے ذمہ دار ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی صیح پاسداری نہیں کر رہا ہے۔

اجلاس میں خصوصی مندوب مکریم ویبی سیو کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور شہریوں کی ہلاکتوں نے اسرائیل کی جانب سے انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قوانین اور حملوں میں احتیاطی تدابیر کے بارے میں عملدرآمد کو مشکوک بنا دیا ہے۔‘

انھوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مسلسل محاصرے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کا محاصرہ اس کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تحقیقات ملتوی

خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں نے ایک دوسرے پر 2014 کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اس جنگ کے دوران 2 ہزار سے زائد فلسطینی مارے گئے۔ مرنے والوں کی اکثریت نہتے شہریوں پر مشتمل تھی اور غزہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔

جنگ میں 67 اسرائیلی فوجی اور چھ اسرائیلی شہری بھی مارے گئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی غزہ کی جنگ کے بارے میں جاری انکوائری کے سربراہ کی تبدیلی کے بعد اس کو جنیوا میں ہونے اجلاس کے ایجنڈے سے نکال دیا گیا تھا۔

اسرائیل نے اس کے سربراہ کنیڈین قانون دان ویلیم شابس پر تعصب کا الزام گایا تھا۔

اس انکوائری کی نئی سربراہ سابق امریکی جج ’میری میکگون‘ ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس انکوائری حتمی رپورٹ رواں سال جون میں پیش کی جائے گی۔

دوسری جانب اسرائیل نے اس انکوائری کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں