’پاکستان کو شدت پسندی کے خلاف ابھی طویل سفر طے کرنا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’حقانی نیٹ ورک کا معاملہ ہم اب بھی پاکستانی حکومت کے سامنے اٹھا رہے ہیں کیونکہ ہمیں اس پر خاصی تشویش ہے‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن پاکستان کو شدت پسندی کے خلاف مکمل عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کرنے میں ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی پیر کو امریکہ کے دورے پر پہنچے ہیں۔

اس دورے سے قبل بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں افغانستان، پاکستان کے معاملات پر امریکہ کی نائب نمائندہ لوریل ملر نے کہا ہے کہ افغان طالبان کےساتھ مذاكرات کی کوششوں میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس میں مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں کافی وقت لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے لیکن کچھ معاملات پر خاص طور پر حقّانی نیٹ ورک کے بارے میں سوالیہ نشان برقرار ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’حقانی نیٹ ورک کا معاملہ ہم اب بھی پاکستانی حکومت کے سامنے اٹھا رہے ہیں کیونکہ ہمیں اس پر خاصی تشویش ہے۔ حقانی نیٹ ورک امریکہ اور افغانستان دونوں ہی کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔‘

پشاور کے سکول پر ہوئے حملے کے بعد پاکستان نے شدت پسندي کے خلاف زیرو ٹولرینس یا مکمل عدم برداشت کی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور کے سکول پر ہوئے حملے کے بعد پاکستان نے شدت پسندي کے خلاف زیرو ٹولرینس پالیسی کا اعلان کیا تھا

لیکن کابل میں ایک بڑا طبقہ ہے جو اس پر یقین نہیں کرتا اور صدر غنی کی پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانے کی کوششوں کے خلاف ہے۔

امریکی سفيرکا کہنا ہے کہ پاکستان کو ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’پاکستان کی زمین سے ہر قسم کی شدت پسندي کو اکھاڑ پھینکنا پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت بھی اس بات کو قبول کرے گی کہ انہیں ابھی اس معاملے پر بہت کام کرنا ہے۔‘

لوریل ملر کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاكرات کی کوششوں میں بھی امریکہ صدر غنی کے ساتھ ہے لیکن اگر کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو اس میں تین شرائط اہم ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پہلی کہ طالبان بین الاقوامی دہشت گردی سے اپنا ناطہ توڑ لیں، دوئم وہ افغانستان میں تشدد پھیلانا بند کر دیں اور تیسری یہ کہ افغانستان کے آئین میں خواتین اور اقلیت کے حقوق کے لیے جو قانون بنے ہیں ان پر عمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو بات چیت کے لیے راضی کرنے کی کوششوں میں چین کی پہل کا بھی امریکہ مکمل طور سے ساتھ دے رہا ہے اور بھارت بھی افغانستان کے استحكام کے لیے ہونے والی ہر کوشش کے حق میں ہے۔

اس دورے پر صدر غنی کی کوشش ہوگی کہ وہ اوباما انتظامیہ کو افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کی حد کو آگے بڑھانے کے لیے راضی کر سکیں۔

اس معاملے پر بات چیت جاری ہے لیکن لوریل ملر کا کہنا ہے کہ اس پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور ممکن ہے کہ اگلے ایک دو دنوں میں اس پر کوئی اہم اعلان ہو جائے۔

استحكام اور سكيورٹي کے علاوہ صدر غنی کے ایجنڈے میں سب سے اوپر ہوگی افغانستان کی معیشت جس کے لیے امریکی مدد بہت اہم ہے۔

افغانستان کے ساتھ امریکہ کےمعاشي تعلقات کس طرح کے ہوں، جو امداد دی جاتی ہے اس کا طریقہ پہلے جیسا ہی رہے یا اس میں رد و بدل ہو اس پر واشنگٹن میں خاصی بحث چل رہی ہے۔

صدر غنی کیا توقع کر سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ریپبلكنز اور ڈیموكریٹس دونوں ہی افغان صدر کا ساتھ دے رہے ہیں

امریکی نائب سفير کا کہنا ہے کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ ابھی افغانستان کو مدد جاری رکھنے پر یہاں ایک رائے ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں میں امداد میں کمی ہوئی ہے اور جیسے جیسے افغانستان کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہے، اس میں مستقبل میں بتدریج کٹوتی ہوگی۔

صدر غنی امریکی وزير دفاع ایشٹن کارٹر اور وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کر رہے ہیں۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں ان کی صدر اوباما سے ملاقات ہوگی اور بدھ کو وہ امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

واشنگٹن میں فی الحال موسم صدر غنی کے موافق نظر آ رہا ہے، ریپبلكنز اور ڈیموكریٹس دونوں ہی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ وہ کس حد تک اور کتنی جلدی اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ماہرین کے مطابق کابل میں ایک بڑا طبقہ ان کی پالیسی کے خلاف ہے اور کس بھی طرح کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔

اسی بارے میں