فرانس میں سوگ، 150 ہلاک شدگان کی تلاش کا عمل جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جہاز میں ایک جرمن سکول کے 16 طالب بھی سوار تھے

فرانس میں حکام کے مطابق ایک جرمن کمپنی ’جرمن ونگز‘ کے طیارے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاش کی تلاش کا کام از سر نو شروع کر دیا گيا ہے۔

منگل کو فرانس کے جنوب میں پہاڑوں پر گر کر تباہ ہونے والے اس طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 144 مسافر اور عملے کے چھ افراد شامل تھے۔

حکام کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے ڈگنے اور بارسیلونیٹے کے دور دراز کے پہاڑی علاقے اور گھاٹی میں لاشوں کی تلاش کا عمل مکمل ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

حادثے کے باعث سپین میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ فرانس، جرمنی اور سپین کے سربراہانِ مملکت بدھ کی شام جائے حادثہ کا دورہ کریں گے۔

یہ طیارہ ایئر بس 320 جرمنی کی سستی ہوائی کمپنی ’جرمن ونگز‘ کا تھا جو جرمنی کی قومی ایئر لائن ’لفتھانزا‘ کی ایک ذیلی کمپنی ہے۔ جرمن وِنگز کی یہ پرواز سپین کے شہر بارسلونا سے جرمنی کے شہر ڈوسلڈورف جا رہی تھی۔

فرانس کی وزارتِ داخلہ کے مطابق طیارے کا ملبہ فرنچ ایلپس کے پہاڑوں میں 5,600 فٹ کی بلندی پر مل گیا ہے۔ انھوں نے طیارے میں سوار عملے سمیت تمام 150 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

بدھ کو وزارت داخلہ نے کہا کہ کاک پٹ کا وائس ریکارڈر مل گیا ہے جسے حادثے میں نقصان پہنچا ہے تاہم اس سے معلومات فراہم ہو سکتی ہیں۔

تازہ تلاش میں طیارے کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اہمیت کا حامل ہے۔ پولیس کی ایک ٹیم نے اس جگہ کی حفاظت کی خاطر رات پہاڑی پر ہی گزاری۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہلاک ہونے والے زیادہ تر مسافروں کا تعلق جرمنی اور سپین سے تھا جبکہ جہاز میں جرمنی کے ایک سکول کے 16 طالب علم اور دو چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔

سپین کے نائب وزیراعظم کے مطابق 67 مسافروں کا تعلق جرمنی سے تھا جبکہ 45 سپین کے شہری تھے۔

طیارے میں سوار دیگر مسافروں میں آسٹریلیا، ترکی، ڈنمارک، نیدرلینڈز اور بیلجیئم کے شہری بھی موجود تھے۔

فرانس کے محکمہ شہری ہوا بازی کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے سے آٹھ منٹ پہلے طیارے کی بلندی میں کمی ہونا شروع ہو گئی تھی، تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اس دوران طیارے کی جانب سے خطرے کا کوئی پیغام موصول ہوا تھا۔

ایک فرانسیسی اہلکار کے مطابق طیارے کا ملبہ بکھرا ہوا ہے اور اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو کہ ٹکڑوں میں نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

واضح رہے کہ ایئر بس 320 ایک چھوٹا طیارہ ہوتا ہے جسے کم اور درمیانی فاصلوں کی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ادھر جرمن ونگز کے مینیجنگ ڈائریکٹر ٹامس ونکل مین نے صحافیوں کو بتایا کہ معمول کی بلندی پر پہنچنے کے ایک منٹ بعد طیارے نے نیچے آنا شروع کر دیا تھا اور آٹھ منٹ کے دوران اس کی بلندی میں کمی آتی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دس بج کر منٹ پرجب طیارہ 6000 فٹ بلند تھا تو اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ ختم ہوگیا تھا۔

فرانسیسی اور جرمن رہنماؤں نے حادثے کی خبر پر اپنے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ہم سب بہت غم میں ہیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ وہ حادثے کے مقام پر جانے کا سوچ رہی ہیں۔

ایک مقامی سرکاری اہلکار گلبرٹ ساون نے ایک اخبار کو بتایا ہے کہ طیارہ مکمل تباہ ہو چکا ہے اور ’اس کا سب سے بڑا ٹکڑا ایک کار کے برابر ہے۔‘

کئی جرمن اخبارات کا کہنا ہے کہ بدقسمت طیارے کے مسافروں میں ایک جرمن سکول کے بچے بھی شامل تھے جو سپین میں کچھ دن گزارنے کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔

واضح رہے کہ ’فرینچ ایلپس‘ کے برف پوش پہاڑوں پر دنیا بھر سے سیاح سکیئنگ کے لیے جاتے ہیں۔ ’پرا لوپ‘ کے مقام پر سیاحت کے شعبے سے منسلک ایک مقامی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج صبح 11 بجے کے قریب انھوں نے پہاڑوں سے ایک عجیب آواز سنی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

’شروع میں ہم نے سوچا کے شاید کوئی برفانی تودہ گِر رہا ہے، لیکن یہ آواز برفانی تودے کے گرنے جیسی نہیں تھی۔ میرا خیال ہے کہ یہ آواز ایسی تھی جیسے کوئی جہاز بہت تیزی سے نیچے آ رہا ہو۔‘

فرانس کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے وزیر داخلہ برنرڈ کازینوو کو جائے حادثے کی جانب روانہ کر دیا ہے اور وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس حادثے سے نمٹنے کے لیے کام کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپین کے شاہ فلپ اور ان کی اہلیہ ان دنوں فرانس کی دورے پر تھے، لیکن حادثے کی خبر ملنے پر انھوں نے اپنا دورہ منقطع کر دیا۔ واپس وطن روانہ سے قبل انھوں نے فرانسیسی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ وہ حادثے سے نمٹنے کے لیے ہر قسم کی مدد کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ حادثے سے پہلے دس بج کر 47 منٹ پر طیارے کی جانب سے پیغام موصول ہوا تھا کہ طیارہ مشکل کا شکار ہے، تاہم بعد میں اس بیان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں