پلاسٹک بوتلوں سےمنیلا کے ہزاروں گھر روشن

Image caption منیلا میں پلاسٹک بوتلوں میں چھوٹا سا پینل، سرکٹ اور ایک بلب لگا کر ہزاروں گھرانوں کو روشن کیا گیا ہے

فلپائن کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’لٹر آف لائٹ‘ نے پرانی پلاسٹک بوتلوں میں چھوٹا سولر پینل، سرکٹ اور ایک بلب لگا کر دارالحکومت منیلا میں ہزاروں غریب گھروں میں روشنی کا تحفہ دیا ہے جہاں بجلی کی سہولت نہیں تھی۔

یہ خیال ایسا مقبول ہوا ہے کہ کئی پسماندہ ممالک میں پلاسٹک بوتلوں میں بلب لگائے جا رہے ہیں، جیسے پاکستان۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کی دمپالت برنگائے نامی کچی آبادی، جہاں جھیلوں کے پاس لکڑی کےگھر جو سیلاب اور سمندری طوفانوں سے بچنے کےلیے ڈنڈوں پر کھڑے ہیں۔ منیلا ایشیا کا وہ شہر ہے جہاں لاکھوں افراد انتہائی غریب ہیں اور کچے گھروں میں رہتے ہیں۔

ایسے ہی ایک لکڑی کے گھر میں میری ملاقات چوالیس سالہ ملڈریڈ اینریکیز سے ہوئی جن کے شوہر ایک ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ ایک ہی کمرے میں چار بچے اور ملڈریڈ کی ساس رہتی ہیں۔ ملڈریڈ نے مجھے بتایا کہ ان کے شوہر کی تنخواہ سے بچوں کی تعلیم اور کھانا پینا ہی پورا ہوتا ہے، بجلی کی بلوں کی ادائیگی ممکن نہیں۔

اسی لیے ان کے گھر میں تین سال سے بجلی نہیں ہے۔ گھر کے کونے میں فریج پڑا ہے۔ میں نے ملڈریڈ سے جب پوچھا کہ یہ کیسے چلتا ہے، تو انھوں نے بتایا کہ یہ دکھاوے کے لیے ہے، اصل میں الماری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس خاندان کی مشکلات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، فلپائن کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے ملڈریڈ کے گھر میں شمسی توانائی سے چلنے والا ایک بلب لگایا۔ اس بلب کی خاصیت یہ ہے کہ سستے سولر پینل کو ایک سرکٹ اور چھوٹے بلب سے جوڑا جاتا ہے اور ایک پرانی پلاسٹک بوتل میں نصب کیا جاتا ہے۔

ملڈریڈ نےشرماتے شرماتے کہا کہ رات کو روشنی ہونا بھی ان کے لیے آسائش ہے۔ ’یہ بلب روز مرہ کے کاموں میں بہت مدد کرتا ہے کیونکہ ہمارے بچوں کے لیے رات کو پڑھائی ممکن ہوگئی ہے جس سے زندگی میں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔‘

غیر سرکاری تنظیم ’لٹر آف لائٹ‘ کا پلاسٹک بوتل استعمال کرنے کا آئیڈیا اتنا طاقتور ہے کہ نہ صرف فلپائن کے ہزاروں گھرانوں کو روشن کیا ہے بلکہ تحریک کی شکل میں دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ مثال کے طور پر فلپائن کی طرح پاکستان میں بھی لاکھوں خاندان بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ لٹر آف لائٹ کا کہنا ہے کہ حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے یہ سستے بلب خود لگانا بہتر ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع بے گھر افراد کے لیے خیمہ بستی جلوزئی کیمپ میں میری ملاقات پاکستانی نژاد برطانوی وقاص بٹ سے ہوئی، جو ’لٹر آف لائٹ پاکستان کے بانی ہیں۔ انھوں نے انٹرنیٹ پر فلپائن کے ’لٹر آف لائٹ‘ کے بانی الاک ڈئز سے متاثر ہو کر پاکستان میں شروع کیا۔ ’نہ صرف کوڑے میں جانے والی بوتلیں استعمال ہو جاتی ہیں بلکہ کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو سہولت مل جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستانی نژاد برطانوی وقاص بٹ نے برطانیہ میں اپنا کاروبار چھوڑ جلوزئی کیمپ کو روشن کر رہے ہیں

انتظامیہ کے مطابق جلوزئی کیمپ میں باجوڑ، باڑہ اور مہمند ایجنسیوں سےبےگھر افراد رہائش پذیر ہیں اور رات کے وقت میلوں دور اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ وقاص نے پہلے مرحلے میں سو بلب نصب کیے، جس میں واش روم اور ہسپتال کا زنانہ حصہ شامل ہے۔

’ہسپتال میں تو تین ماہ تک بالکل بجلی نہیں تھی اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے خاص کر خواتین اور معذور افراد کو بہت مشکلات ہیں۔ خواتین کے ثقافتی مسائل ہیں کیونکہ اندھیرا ہونے کے بعد وہ باہر نہیں جا سکتیں۔ رات کو واش روم جانا ہی ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے جس میں تحفظ کے مسائل بھی ہوتے ہیں۔‘

برطانیہ میں اپنا کاروبار چھوڑ کر وقاص بٹ نے یہ فلاحی کام شروع کیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ فلپائن کی طرح اس پروجیکٹ کا اجالا پاکستان بھر میں پھیل جائے۔