جہاز کا معاون کپتان ’طیارہ تباہ کرنا چاہتا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Imagem retirada do Twitter
Image caption معاون کپتان آندریاز لُوبِٹز کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر ان کے پروفائل سے لی گئی ہے

فرانسیسی حکام کے مطابق لگتا ہے کہ جرمن وِنگز کے گر کر تباہ ہونے والے طیارے کا معاون کپتان ( کو پائلٹ) ’طیارے کو تباہ‘ کرنا چاہتا تھا۔

منگل کو تباہ ہونے والے طیارے کے حادثے کی تفتیش کرنے والے سرکاری ماہر برائس روبن نے بلیک باکس سے ملنے والی آوازوں سے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ حادثے کے وقت معاون کپتان کاک پِٹ میں تنہا تھا اور اس نے اس وقت دانستہ طور پر طیارے کی بلندی کم کرنا شروع کر دی جب طیارے کا کپتان کاک پِٹ سے باہر تھا۔

مسٹر روبن کا کہنا ہے کہ جس وقت پائلٹ واپس کاک پِٹ میں آنے کی جدو جہد کر رہا تھا اس وقت کاک پِٹ کے اندر ’مکمل خاموشی‘ تھی۔

تفیش کار کا مزید کہنا تھا کہ جب طیارہ زمین پر گرا تو اس وقت بھی آندریاز لُوبِٹز نامی نائب کپتان زندہ تھا۔

مسٹر روبن نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ’ہم نے کپتان کو معاون کپتان سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ جہاز کا کنٹرول سنبھال لیں اور اس کے ساتھ ہی ہم نے نشت پیچھے کرنے کی اور دروازہ بند ہونے کی آواز سنی۔‘

’اس وقت معاون کپتان جہاز کا کنٹرول سنبھالے ہوئے تھا۔ جب وہ کاک پٹ میں تنہا ہوا تو اس نے ’فلائٹ مانیٹرنگ سسٹم‘ پر جہاز نیچے اترنے کا بٹن دبایا۔‘

’اس اونچائی پر جہاز کو نیچے اتارنے کی حرکت دانستہ ہی ہو سکتی ہے۔‘

اس وقت طیارے کا مکمل کنٹرول نائب کپتان کے ہاتھ میں تھا۔ جب وہ کاک پِٹ میں تنہا تھے تو انھوں نے فلائیٹ مانیٹرنگ سسٹم پر جہاز کی بلندی کم کرنے والا بٹن دبا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایئر ٹریفک کنٹرول نے طیارے سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی لیکن یہ کوششیں بے سود ثابت ہوئیں: برائس روبن

’بلندی کم کرنے والا بٹن صرف اسی وقت دبتا ہے جب آپ دانستہ طور پر ایسا کرنا چاہتے ہیں۔‘

مسٹر روبن نے مزید کہا کہ: ’اس کی سب سے بڑی توجیح یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ نائب کپتان نے دانستہ طور پر کاک پِٹ کا دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا تاکہ کپتان واپس اندر نہ آ سکے۔ نائب کپتان نے بٹن دبایا تا کہ طیارہ نیچے آنا شروع کر دے۔ ابھی تک ہم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ نائب کپتان نے ایسا کیوں کیا، لیکن لگتا ہے کہ وہ اس جہاز کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔‘

تفیش کار کا کہنا تھا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول نے طیارے سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی لیکن یہ کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔

مسٹر رابن نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمیں یہ معلوم نہیں‘ کہ نائب کپتان کا شدت پسندی یا دہشتگردی سے کوئی تعلق تھا، تاہم انھوں نے کہا کہ توقع ہے کہ جرمن حکام نائب کپتان کے پس منظر اور اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں مزید معلومات فراہم کریں گے۔

دوسری جانب حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین جائے حادثہ پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کی صبح تفتیش کاروں نے بتایا تھا کہ کاک پٹ کے وائس ریکارڈر سے ملنے والی آوازوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پائلٹ کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ جرمنی کی قومی فضائی کمپنی لُفتھانزا کی ذیلی کمپنی ’جرمن ونگز‘ کا مسافر طیارہ منگل کے روز بارسلونا سے جرمنی کے شہر ڈزلڈورف جاتے ہوئے فرانس کے پہاڑی سلسلے ’فرنچ ایلپس‘ پرگر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس طیارے میں سوار 144 مسافر اور عملے کے چھ افراد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں