یمن میں فضائی حملے، صدر ہادی سعودی عرب پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب نے بدھ کی رات فضائی حملے شروع کیے تھے

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رہیں گے لیکن ابھی وہاں زمینی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب میں حکام کے مطابق یمن کے صدر عبدالربوہ منصور ہادی ریاض پہنچ گئے ہیں۔

حوثی قبائلیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے سعودی حملوں کو مجرمانہ جارحیت قرار دیا ہے۔

’پاکستان کی تنازعے میں شمولیت تباہ کن‘

سعودی عرب کے فضائی حملوں کی مذمت

جمعرات کو جنگی جہازوں نے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔ دارالحکومت صنعا کے شمال میں سابق صدر کے حامی فوجیوں کے ایک کیمپ میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

بدھ کو یمن میں حوثی باغیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی کے بعد صدر عبدالربوہ منصور ہادی فرار ہو گئے تھے اور اس کے بعد آج جمعرات کو ان کے بارے میں پہلی اطلاع سامنے آئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یمنی صدر سعودی دارالحکومت جمعرات کو پہنچے ہیں لیکن یہاں سے مصر میں عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کرنے جائیں گے کیونکہ وہ اب بھی ملک کے قانونی صدر ہیں۔

سعودی عرب نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کیے تھے۔

سعودی حکام کے مطابق حوثی باغیوں کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنے تک یمن میں فضائی حملے جاری رہیں گے۔

ایران نے یمن میں حوثی قبائل کے خلاف فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک’خطرناک قدم‘ قرار دیا ہے۔

بدھ کی رات امریکہ میں سعودی کے سفیر عادل الجبير نے این پریس کانفرنس میں فضائی حملوں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب ہمسایہ ملک یمن کے لوگوں کی حفاظت اور اس کی قانونی حکومت کو بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یمن میں سعودی آپریشن کو سوڈان، مراکش، مصر اور پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ پاکستان نے بھی اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

یمن کے صدر کی درخواست پر سعوری عرب ، بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات عملی طور پر یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک حوثی جنگجو سعودی حملوں کے بعد ہونے والی تباہی کا جائزہ لے رہا ہے

ترکی نے ایران کی جانب یمن میں فضائی حملوں کو بین الاقوامی ذمہ داریوں اور یمن کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران علاقے میں اپنا غلبہ حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے یمن میں فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا موقف ہمارے لیے، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے لیے تکلیف دے بن گیا تھا۔

’یہ بالکل ناقابل برداشت ہے اور ایران کو اسے دیکھنا ہو گا۔‘

دوسری جانب یمن میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت کے بعد سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چھ فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت صنعا اور تعز میں فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ذائع ابلاغ کے مطابق صنعا میں ہونے والے فضائی حملوں میں کم از کم 13 عام شہری مارے گئے جبکہ ملک کے جنوبی حصے میں حوثی باغیوں اور صدر ہادی کی اتحادی افواج میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 18 افراد مارے گئے۔

حوثی قبائل کی پیش قدمی کے باعث یمن میں جاری خانہ جنگی میں ہمسایہ خلیجی ممالک کی مداخلت کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا اور سعودی عرب نے مداخلت کی دھمکی بھی دی تھی۔

اسی بارے میں