پائلٹوں کی ذہنی صحت کیسے جانچی جائے؟

Image caption جرمن ونگز کے حادثے کے بعد اب پائلٹوں کو نفسیاتی طور پر جانچنے کی جانب توجہ دی جا رہی ہے

فرانس میں گر کر تباہ ہونے والے جرمن ونگز کے طیارے کی تحقیقات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارہ شاید معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز نے جان بوجھ کر تباہ کیا تھا۔ اب پائلٹوں کی جانچ جس انداز میں کی جاتی ہے اب اس عمل میں انتہائی سختی لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

جرمن ونگز کی مالک کمپنی لفتھانزا کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ آندریاز لوبٹر ذہنی طور پر تندرست نہیں تھے۔

لفتھانزا کے چیف ایگزیکٹیو کارسٹن سپوہر کا کہنا ہے کہ 2009 میں مختصر مدت کے لیے لوبٹز کی تربیت روک دی گئی تھی، تاہم بعدازاں ان کو بحال کر دیا گیا تھا۔

ان کہنا تھا کہ انھیں اس تربیت کو روکے جانے کی وجوہات بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب آندریاز لوبٹز کی واپسی ہوئی تو ’ان کی کارکردگی تنقید سے مبرا تھی‘ اور ان کے رویے میں کوئی ’غیرمعمولی بات نہیں تھی۔‘

اس سارے معاملے نے اب پائلٹوں کو نفسیاتی طور پر جانچنے کی جانب توجہ مرکوز کر دی ہے۔ بہت سے مسافر یہ خیال کرتے ہیں کہ جہاز اڑانے والا ذہنی جانچ پڑتال کے عمل سے گزر چکا ہے کہ ان کا رویہ اور کردار سینکڑوں لوگوں کی زندگیوں کی ذمہ داری نبھانے کے لیے موزوں ہے۔

کیا یہ حقیقت ہے؟

کارسٹن سپوہر اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ یورپ بھر میں ایسا نفسیاتی ٹیسٹ لازمی نہیں ہے۔

برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں بیشتر پائلٹ ہوا بازی کے تربیتی سکول سے آغاز کرتے ہیں، لیکن یہ سکول امیدواروں کی نفسیاتی جانچ پڑتال نہیں کرتے۔ ان کی تمام تر توجہ امیدار کی اڑان بھرنے کی قابلیت پر مرکوز ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پائلٹوں کا طبی معائنہ ایوی ایشن کا خصوصی طور پر تربیت یافتہ طبی عملہ کرتا ہے

برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے فلائیٹ آپریشن کے سابق سربراہ کیپٹن مائیک ویوین کا کہنا ہے کہ ایک پائلٹ کو جب کسی ہوائی کمپنی میں ملازمت ملتی ہے تو اس کا مسافروں کے ساتھ اڑنے سے پہلے طبی معائنہ ہوتا ہے، جو ’بہت سخت‘ ہوتا ہے۔

کیپٹن ویوین کے مطابق اس عمل میں نفسیاتی جانچ پڑتال بھی شامل ہوتی ہے۔ امیدواروں سے ان کے سابقہ تجربات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، جس میں ان کی دلچسپیاں، خاندانی تعلقات اور اس کے ساتھ ساتھ ڈیپریشن کا شکار ہونا یا خودکشی کی جانب مائل ہونے کے بارے میں سوال بھی شامل ہوتے ہیں۔

یہ طبی معائنہ خصوصی طور پر تربیت یافتہ ایوی ایشن کے طبی عملے کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ یہ عمر کے تناسب سے سال میں ایک یا دو مرتبہ کیا جاتا ہے۔

تاہم سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ جانچ پڑتال کے تمام عوامل کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ’جرمن ونگز کے افسوس ناک سانحے کے بعد ہم یورپیئن ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے ساتھ معاونت کر رہے ہیں اور ہم نے برطانیہ میں تمام آپریٹروں کے ساتھ متعلقہ عوامل کا دوبارہ جائزہ لینے لے لیے رابطہ کیا ہے۔‘

بیشتر طبی معائنے پائلٹ کی جسمانی صحت سے متعلق ہوتے ہیں، یعنی قد، وزن، خون اور پیشاب کا معائنہ، وغیرہ۔ جبکہ ذہنی صحت سے متعلق حصہ انتہائی محدود ہے۔ ساڑھے تین صفحوں پر مشتمل ہدایت نامے میں صرف چھ سطریں نفسیاتی امور سے متعلق ہیں۔

’درخواست گزار کے ماضی کو جانچنے کے دوران ڈاکٹر کو چاہیے کہ اس کی ذہنی صحت کے بارے میں عمومی سوالات کرے، جن میں اس کا موڈ، سونا اور الکوحل کے استعمال سے متعلق سوالات شامل ہو سکتے ہیں۔ اس ڈاکٹر کو چاہیے کہ وہ درخواست گزار کا معائنہ کرے اور اس کی ذہنی صحت کے بارے میں، اس کے حلیے، بولنے کے انداز، موڈ، سوچ، گمان اور شعور کی جانچ کرے۔ ڈاکٹر کو چاہیے کہ وہ الکوحل کے استعمال یا نشے کی علامات بھی تلاش کرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیشتر طبی معائنے پائلٹ کی جسمانی صحت سے متعلق ہوتے ہیں جبکہ ذہنی صحت سے متعلق حصہ انتہائی محدود ہے

برٹش ایئرویز کے ایک سابق پائلٹ ٹرسٹان لورین سنہ 2006 میں 20 سال جہاز اڑانے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کریئر کے دوران کوئی نفسیاتی جانچ پڑتال نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’طبی معائنے میں ای سی جی، پیشاب اور خون کا معائنہ شامل تھا اور بس۔‘ ان میں ذہنی صحت بالکل شامل نہیں تھی۔

برٹش ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن کے فلائٹ سیفٹی کے سربراہ ڈاکٹر روب ہنٹر نے ایک بیان میں ان بیانات کو رد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’سالانہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ کی درخواست میں یہ ایک قانونی ضرورت ہے کہ پائلٹ اگر نفسیاتی مسائل کا شکار ہے تو ان کی وضاحت کرے اور معائنہ کار سے اہم امید رکھتے ہیں اگر معائنے کے دوران اگر کوئی ذہنی صحت کے مسائل کی نشاندہی ہو تو اس کی مزید جانچ کی جائے۔ پائلٹ تکنیکی امور، حفاظتی مسائل اور کسی بھی قسم کے طبی یا ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہ کرنے کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔‘

ٹریسٹن لورین جو پائلٹوں کی فلاح کے لیے بھی سرگرم ہیں، کہتے ہیں پائلٹوں اور کیبن کے عملے سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مسائل کے بارے میں بتائیں گے، لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ پرواز کی ہے جو جہاز اڑانے کی حالت میں بالکل نہیں تھے، ان کے گھریلو یا معاشی مسائل تھے اور ان سے مجھ پر زیادہ دباؤ تھا۔ آپ لینڈ کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں آپ کو چاہیے کہ آپ کچھ دن کے لیے چھٹی پر چلے جائیں۔ آپ کو وہ لوگ یاد رہتے ہیں۔‘

پائلٹوں کا جان بوجھ کر طیارہ تباہ کرنے کو ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ طیارہ جان بوجھ کر تباہ کرنے کے حوالے سے اکتوبر 2009 میں مصر کے ایجپٹ ایئر کا حادثہ اور نومبر 2013 میں موزمبیق اور انگولا کے درمیان پرواز کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر گرائی گئی تھی۔

Image caption فیس بک سے لی گئی آندریاز لوبٹر کی سنہ 2008 کی تصویر۔ ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی ملازمت سے مطمئن تھے

مارچ 2012 میں امریکی شہر لاس ویگس جانے والی ایک پرواز کو ٹیکسس میں ہنگامی طور پر اترنا پڑا تھا کیونکہ معاون پائلٹ نے کیپٹن کو اس کے نامناسب رویے کے باعث کاک پٹ کے باہر بند کر دیا اور مسافروں نے اسے باندھ کر زمین پر اتارا تھا۔

ٹرسٹان لورین کے مطابق نفسیاتی جانچ پڑتال مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس سے ذہنی صحت کے تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ جیسا کہ لفتھانزا کے مطابق لوبٹز کے معاملے میں کوئی علامات نہیں تھیں۔

کپٹن ویون کہتے ہیں کہ یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ ایئرلائنز جانچ پڑتال کا عمل کس طرح نقائص سے پاک بنائیں گی۔ وہ کہتے ہیں: ’میں ایسے کسی ٹیسٹ کے بارے میں نہیں جانتا جس میں کسی فرد کی ذہنی حالت کے بارے میں خصوصی طور پر جانا جا سکے۔‘

کاک پٹ میں پائلٹ کے تنہا ہونے کے بارے میں سوال پر لورین کہتے ہیں کہ ’سب سے بہترین حل یہ ہے کہ کاک پٹ میں کیبن کے عملے کا ایک فرد ضرور موجود ہو۔‘

امریکہ کی وفاقی ایوی ایشن اتھارٹی نے یہی کیا ہے اور اب یورپ بھی یہی خیال کر رہا ہے کہ کیا انھیں بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں