عرب لیگ کا مشترکہ فوج بنانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ فوج 40 ہزار فوجیوں پر مشتمل ہوگی

عرب لیگ کے ممالک کے سربراہان میں ایک مشترکہ عرب فوج بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس بات کا اعلان اتوار کو مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے شرم الشیخ میں جاری اجلاس کے دوسرے روز کیا۔

خیال رہے کہ اس وقت مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں یمن کی صورتحال کا جائزہ لینےکے لیے عرب لیگ کا اجلاس جاری ہے لیکن یہ ابھی واضع نہیں ہوسکا کہ اس فوج کو یمن بھیجا جائے گا یا نہیں۔

گزشتہ پانچ روز سے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی یمن میں فضائی کارروائی کر رہے ہیں۔

یہ فضائی حملے یمن کے صدر عبدربہ ہادی منصور کی حمایت میں کیے جا رہے ہیں جو حوثی باغیوں کی پیش قدمی کی وجہ سے ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو ایران کی مدد حاصل ہے۔

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کا کہنا تھا کہ ’ عرب رہنماوں میں مشترکہ فوج بنانے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔‘

یہ ایک رضاکار فوج ہو گی اور اس کو منظم کرنے کے لیے عرب لیگ اپنے اراکین ممالک کے فوجی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کرے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ فوج میں عرب لیگ کے تمام اراکین کی جانب سے شمولیت کا امکان نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مصری حکام کا کہنا ہے یہ فوج 40 ہزار اعلٰی تربیت یافتہ فوجیوں پر مشتمل ہوگی اور اسے فضائی اور بحری مدد بھی حاصل ہوگی۔

عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی کا کہنا ہے کہ سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف جاری کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک باغی قبضہ کیے ہوئے علاقے چھوڑ کر ہتھیار نہیں ڈال دیتے۔

اسی بارے میں