سعودی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد

سعودی تیل تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption سعودی عرب تیل میں کمی کے اثرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

سعودی عرب کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے نائب گورنر کہتے ہیں کہ سعودی عرب پر سرمایہ کاروں کا اعتماد اب بھی مضبوط ہے۔

یہ گذشتہ چھ ماہ میں تیل کی قیمت میں تقریباً آدھی کے قریب کمی کے باوجود ہے۔

اس کی وجہ ریاست کی طرف سے زیادہ مقدار میں سرمایہ کاری اور سعودی سٹاک مارکیٹ میں متوقع اصلاحات ہیں۔

اس سال سعودی عرب میں کم اقتصادی ترقی کی امید کی جاری ہے اور 2011 کے بعد پہلی مرتبہ اس کے بجٹ میں خسارے کی توقع ہے۔

حکومت کی انویسٹمنٹ اتھارٹی ساگیا کے نائب گورنر شہزادہ سعود الفیصل نے دبئی میں بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے 2015 میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا ہے۔‘

شہزادہ سعود نے کہا کہ ترقی کی شرح میں کمی کے اندازوں کے باوجود ’ہم نے بطور ایک ادارے کے تیل کی کم قیمتوں میں کمی کے کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے۔‘

سعودی عرب اس وقت بہتر پوزیشن میں ہے کہ تیل کی آمدنی میں کمی کے اثرات کو برداشت کر سکے کیونکہ ایک اندازے کے مطابق اس نے قیمتوں کے عروج کے وقت تقریباً 750 ارب ڈالر کے ذرِمبادلہ کے ذخائر جمع کیے تھے۔

تاہم ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ریلے میں ان قواعد و ضوابط کا اثر جاتا رہا جن کے تحت سعودی عرب میں مقامی تاجروں کو مدد ملتی تھی۔

تقریباً پانچ سال پہلے سعودی عرب جو ’ڈوئنگ بزنس‘ رپورٹ میں 200 میں سے 13 ویں پوزیشن پر تھا اب 49 ویں پوزیشن پر آ گیا ہے۔ اس کی تجارتی فضا کے متعلق خیال ہے کہ یہ دیوالہ پن، کوئی بزنس شروع کرنے کے لیے اور معاہدوں پر عمل درآمد کروانے کے لیے بہت بری ہے۔

شہزادہ سعود الفیصل کہتے ہیں کہ ان کو اس پوزیشن پر اس وقت تک تشویش نہیں ہو گی جب تک 70 سال ’تبدیلی کی تحریک‘ سعودی عرب میں جاری ہے۔

سعودی عرب کی معشیت کا اب بھی زیادہ تر دارومدار تیل پر ہے، جس کی قیمت سوموار کو بھی گر گئی تھی۔

یہ ان خدشات کی بنا پر ہوا تھا کہ اگر ایران اور بشمول امریکہ چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران پر سے پابندیاں اٹھ جائیں گی اور مارکیٹ میں تیل کی سپلائی زیادہ ہو جائے گی۔

اسی بارے میں