اسلامی قوانین پر طنز پر دھمکیاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ فلم چوبیس گھنٹوں میں ہی وائرل ہوگئی تھی

ملائشیا میں ایک طنزیہ فلم نے اسلامی قوانین کے بارے میں پائی جانے والی حساسیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں انٹرنیٹ پر اظہار رائے کی آزادی کی بحث کو چھیڑ دیا ہے۔

اس فلم کا مقصد ملائشیا کی ایک ریاست میں اسلامی قانون کی توسیع کا ہلا پھلکا مزاق اڑانا تھا۔ لیکن اس کے سامنے آنے کے بعد اس میں کام کرنے والی صحافی عائشہ تاج الدین کو پولیس کی جانب سے تحقیقات کے سامنے کے علاوہ قتل اور ریپ کی دھمکیاں بھی ملی ہیں۔

اس سب کا آغاز اس وقت ہوا جب پین ملیشین اسلامک پارٹی جسے پی اے ایس بھی کہا جاتا ہے نے ملک کے شمال میں واقع دیہی ریاست کیلنٹن میں مسلمانوں پر اسلامی حدود کے قوانین کے نفاذ کی تجویز دی تھی۔

خیال رہے کہ حدود قوانین زنا، ڈکیتی، چوری اور اسلام سے انحراف جیسے جرائم پر لاگو ہوتے ہیں اور حدود قوانین میں جو سزائیں تجویز کی گئی ہیں جیسے ہاتھ کاٹنا، سرِعام کوڑے مارنا، سنگھسار اور موت کی سزا وغیرہ کو مغربی ممالک میں ظلم یا انوکھا سمجھاجاتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے علاوہ کسی اسلامی ملک میں بھی حدود قوانین نافذ نہیں ہے۔

بی ایف ایم نامی ایک مقامی ریڈیو کے لیے کام کرنے والی صحافی عائشہ نے ایک ویڈیو جس کا نام ’حدود: چاولوں کے پیالے کا مسلہ‘ تھا، کے ذریعے پی اے ایس جماعت کا مذاق اڑایا تھا۔

ویڈیو میں دیکھایا گیا ہے کہ جب عائشہ ریاست کیلنٹن کی فرضی سرحد کو عبور کرتی ہے تو اس کے سر پر خود بخود دوپٹہ آجاتا ہے۔ جب وہ ایک کھانے کا پیکٹ کھولتی ہے تو اس میں اس کو چاولوں کے بجائے پتھر ملتے ہیں۔ عائشہ پتھر کو ہوا میں اچھالتے ہوئے کہتی ہے کہ ’کیا ہوا ہمارے پاس حدود کے قوانین ہیں نا‘ اور اس کے ساتھ وہ خوشی سے ہوا میں اونگوٹھا بھی لہراتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھمکیوں کے علاوہ عائشہ کو توہینِ مذہب کے الزام میں پولیس کی جانب سے تحقیقات کا بھی سامنا ہے

دراصل وہ یہ بتانے کی کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ لوگوں کو حدود نہیں معاشی خوشحالی چاہیے اس لیے پی اے ایس کو ریاست کی معشیت کی بحالی اور سیلاب کے بعد تعمیرِ نو جیسے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

بی ایف ایم ریڈیو نےاس فلم کو اپنے یو ٹیوب پیج سے ایک دن بعد ہی اتار دیا تھا لیکن یہ فلم چوبیس گھنٹوں میں ہی وائرل ہوگئی تھی اور اس کو کاپی کر کے یوٹیوب اور فیس بک کے دیگر پیجز پر لگا دیا گیا تھا۔ فیس بک کے ایک مقبول پیج پر اس فلم کو اب تک 7لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

لیکن انٹر نیٹ پر مقبولیت کے ساتھ عائشہ کو بڑے پیمانے پر منفی ردِعمل کا بھی سامنا ہے۔ فیس بک پر ایک شخص نے لکھا کہ ’جو لوگ اللہ کے قانون کا مذاق اڑاتے ہیں ان کا قتل جائز ہے۔‘

کچھ لوگوں نے ان کے دفاع میں بھی لکھا۔ ’سسٹرز ان اسلام‘ پیج پر چیم سون کنگ نے لکھا ہے کہ ’ ارے بھائی اگر آپ کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی کا ریپ یا قتل کرسکتے ہیں۔‘

لیکن کچھ لوگوں نے عائشہ کو ملنے والی دھمکیوں کی مذمت کے ساتھ اس فلم کی بھی غلط قرار دیا ہے۔ فیس بک پر اسی طرح کے ایک کمنٹ میں لکھا گیا کہ ’ کسی کو قتل یا ریپ کی دھمکیاں دینا غلط ہے لیکن میرا نکتہ یہ ہے کہ عائشہ نے بھی حد پار کی ہے اس لیے وہ بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔‘

دھمکیوں کے علاوہ عائشہ کو توہینِ مذہب کے الزام میں پولیس کی جانب سے تحقیقات کا بھی سامنا ہے اور اگر اس پر جرم ثابت ہوگیا تو اس کو ایک سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔

اس تنازعے کا شکار صرف عائشہ نہیں ہوئی، اس مسلے پر ملک کے سب سے اعلی پولیس عہدے دار انسپکٹر جنرل خالد ابوبکر اور قانون دان اور سرگرم کارکن مشعل یسوداس کی درمیان آن لائن سخت فقروں کا تبادلہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حزبِ اختلاف کے سیاستدان پولیس کے سربراہ پر صرف حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی کا الزام لگتے ہیں

انٹرنیٹ پر لکھے گئے اپنے پیغامات میں مشعل یسوداس نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس بتائے کہ عائشہ کو ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں کیا کیا جا رہا ہے۔ ’ایک پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’ میں حقیقتاً بہت خوف زدہ ہوں کہ یہ جاہل اور ریپ کرنے پر تلے ہوئے لوگ دراصل ہمارے ملک کی اکثریت ہیں۔‘

ان کے ان پیغامات کے جواب میں پولیس سربراہ نے لکھا کہ ’ مشعل یسوداس کو پولیس ہیڈکوارٹر بلا کر بغاوت کے قانون کے تحت تفتیش کی جائے۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت کے مخالفین کو دبانے کے لیے پولیس کی جانب سے بغاوت کے قانون کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس سال کے پہلے تین ماہ میں بغاوت کے قانون کے تحت اب تک 29 افراد کو گرفتار یا ان سے تحقیقات کی جا چکی ہیں جبکہ پچھلے پورے سال 23 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

خالد ابوبکر اس پہلے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہہ چکے ہیں کہ پولیس اسلام مخالف بیانات کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور ہمارے پاس ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

اپنی ایک ٹوئٹ میں خالد ابوبکر کا کہنا تھا کہ ’ اپنے الفاظ کا چناؤ احتیاط سے کریں کچھ ایسا نہ کہیں جو پولیس کو آپ کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور کرے، اگر آپ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں تو پھر نتائج سے نمٹنے کی بھی ہمت رکھیں۔‘

ہیومن رائٹ واچ ایشیا اور حزبِ اختلاف کے سیاستدان پولیس کے سربراہ پر صرف حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی کرنے کا الزام لگتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب خالد ابوبکر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

جہاں تک حدود کے قانون کے نفاظ کا تعلق ہے حقیقت میں اس کا کوئی امکان نہیں۔

اگرچہ کیلنٹن کی ریاستی اسمبلی نے مجوزہ تجویز کو منظور کر لیا ہے لیکن قومی اسمبلی سے اس کو منظور کرانے کے لیے پی اے ایس کے پاس مطلوبہ تعداد میں ارکان کی حمایت نہیں ہے۔

اسی بارے میں