سعودی عرب کی داعش کی کشش کے خلاف جنگ

سعودی یمن سرحد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب نے عراق کے ساتھ اپنی سرحد پر سکیورٹی انتظامات سخت کیے ہیں

سعودی فوجی عراق کے ساتھ سعودی عرب کی سرحد پر پہرا دے رہا ہے جہاں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ایک بڑے علاقے پر قابض ہے۔

ریاض سے ذرا باہر ریت کے ٹیلے ہر اختتامِ ہفتہ کو تفریح کی تلاش میں آنے والوں سے بھر جاتے ہیں جو صحرا میں ریت اڑاتی بڑی بڑی کاروں سے دور پکنک کا مقام محفوظ مقام ڈھونڈنے یہاں آتے ہیں۔

مشان العنزی بھی اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں بیٹھے ہیں۔ وہ ملک کے شمال سے آئے ہیں جو عراق کے اس علاقے کے ساتھ ہے جہاں دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے۔

مشان مجھے بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے سے ان کا ایک دوست دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے شام گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ادنیٰ درجے کے افراد جن کو کوئی شعور نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو دولتِ اسلامیہ کی طرف دیکھتے ہیں۔

’داعش کے لیے ان کو برین واش (نظریات تبدیل) کرنا آسان ہے۔‘

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق 2011 سے لے کر اب تک تقریباً 2,600 سعودی شہریوں نے شام جا کر داعش میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جن میں سے 600 کے قریب واپس آ گئے ہیں، جبکہ 400 کو ملک میں دولتِ اسلامیہ سے منسلک کارروائیوں کے حوالے سے گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان جنرل منصور سلطان الترکی نے کہا کہ یہ ایک چھوٹی تعداد ہے لیکن پھر بھی یہ شدید تشویش کا باعث ہے۔

’جس نے بھی دولتِ اسلامیہ بنائی کسی مقصد کے تحت بنائی اور اس میں ایک مقصد یقیناً سعودی عرب پر حملہ کرنا بھی ہے۔‘

’ان کو معلوم ہے کہ ہماری سرحدیں بہت محفوظ ہیں اس لیے انھوں نے سوچا کہ بہتر طریقہ پراپیگنڈا ہے، جیسا کہ سعودی نوجوانوں کو تحریک دلائی جائے کہ وہ ان کے لیے دہشت گردی کریں۔‘

2000 کی دہائی کے وسط سے جب القاعدہ نے یہاں بہت حملے کیے تھے سعودی عرب نے انسدادِ دہشت فورسز پر بہت سرمایہ کاری کی ہے۔ لیکن حال ہی میں اس پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ شام میں جنگجوؤں کی مدد کر رہا ہے۔

اس کے بعد دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔

Image caption ان نوجوان لڑکوں کا ایک دوست شام جا کر داعش میں شمولیت اختیار کر چکا ہے

اب اس نے سعودی عرب پر قبضے کا عہد کیا ہے جہاں سے اسلام کی ابتدا ہوئی تھی اور یہاں اس کے سب سے مقدس مذہبی مقامات ہیں۔

گذشتہ برس ریاض نے داعش میں شمولیت کو ایک جرم قرار دیا تھا اور سعودی مذہبی علما سے اس سلسے میں مشاورت کی تھی جو اب داعش کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔

لیکن اس نے اپنے گریبان میں نہیں جھانکا جو کہ قدامت پسند نظریات کا مجموعہ ہے، وہ جو سخت ترین اسلامی سزاؤں کی تلقین کرتا ہے، وہی سزائیں جو اب دولتِ اسلامیہ لوگوں کو دے رہی ہے۔

حال ہی میں سعودی بلاگر کو 1,000 کوڑوں کی سزا کے بعد مغرب سعودی عرب اور دولتِ اسلامیہ کے نظریات کے درمیان موازنہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔

سابق انٹیلیجنس کے سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ ’یہ میڈیا اور آپ جیسے لوگوں کے ساتھ ہمارا بنیادی مسئلہ ہے جو سیب اور مالٹے کو ملا دیتے ہیں۔‘

’فحش (دولتِ اسلامیہ) ایک دہشت گرد گروہ ہے، اس کا کوئی قانونی نظام نہیں ہے۔‘

’سلطنت ایک ریاست ہے، اس کا ایک عدالتی نظام ہے جس کے پیچھے ایک تاریخ ہے جو کہ انگریزوں کے قانون سے بھی لمبی ہے۔‘

سعودی کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنھوں نے انتہا پسند گروہوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انھوں نے مجھے ایک ہائی سکیورٹی جیل کا مائنہ کرایا جہاں دولتِ اسلامیہ کے قیدیوں کو رکھا گیا تھا۔

اس جیل کی صاف ستھری راہداریاں تھیں، پینٹ کیے ہوئے ارغوانی رنگ کے دروازے، جدید ہسپتال، کتابوں کا کمرہ، شادی شدہ افراد کے لیے کمرہ، بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایت کرنے کا ایک بکس بھی۔

ایک قیدی کے علاوہ جس کو مجھ سے بات کرنا تھی باقی سبھی قیدیوں کو مجھ سے دور رکھا گیا۔

45 سالہ مانا ناصر نے مجھے بتایا کہ وہ شام امدادی کام کرنے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک عراقی فوجی داعش سے ملنے والے اسلحے کے قریب کھڑا ہے

انھوں نے رقہ کو اپنا چنا کیونکہ اس وقت واں ہی سب سے زیادہ پناہ گزین آ رہے تھے۔ لیکن بعد میں وہ دولتِ اسلامیہ کا ہیڈ کوارٹر بن گیا۔

انھوں نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے انھیں دھمکی دی کہ اگر وہ سعودی شاہی خاندان اور دوسرے عرب رہنماؤں کو رد نہیں کریں گے تو وہ انھیں قتل کر دیں گے۔

’میں ان کے ساتھ وفاداری اور ان کے نظریات کی پیروی کرنے پر مجبور تھا۔‘

حکومت کے اس اصلاحی مرکز میں سوشل ورکر، مبلغ، فنکار اور ماہرِ نفسیات آتے ہیں تاکہ ان شدت پسندوں کی دوبارہ معاشرے میں بحالی کی جا سکے۔

اس پروگرام سے مستفید ہونے والے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ اس نے شام جا کر دولتِ اسلامیہ کے ساتھ ملک کر جہاد کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت سے جہاد کے متعلق اس کے عقائد بدل چکے ہیں۔

’مجھے پتہ چلا ہے کہ اب (دولتِ اسلامیہ) غیر مسلم اور مسلمان دونوں سے لڑ رہی ہے۔ شکر ہے کہ سینیٹر نے ہمیں سچ کی روشنی دکھائی۔‘

لیکن لندن میں مقیم مشرقِ وسطیٰ کی ماہر جین کِننمونٹ کہتی ہیں کہ سعودی عرب کا کٹر اسلام دولتِ اسلامیہ کے ساتھ مذہبی عدم رواداری کی شراکت کرتا ہے جو اس میں شیعہ اور غیر مسلموں کی ہلاکتوں کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔

اگرچہ سعودی نوجوان کو تیل کی دولت کی وجہ سے بگڑے ہوئے نوجوان سمجھا جاتا ہے، ریاست کو سب کے لیے نوکریاں ڈھونڈنے میں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد دو تہائی ہے۔

ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی نوجوان جن کے پاس تعلیم اور نوکریاں نہیں تھیں وہ اس طرح کی زندگی سے بھاگ کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کی بات کر رہے تھے۔

لیکن میدانِ جنگ میں جانا بھی اب مشکل بنا دیا گیا ہے۔ سعودیوں نے کسی بیرونی حملے سے بچنے کے لیے اپنے گرد حصار مضبوط بنا لیا ہے۔

ریاست کی دولتِ اسلامیہ کے ساتھ فرنٹ لائن، یعنی شمالی عراق کی سرحد کے ساتھ دوہری باڑ لگا دی گئی ہے جو صحرا میں دور تک جاتی ہے اور اس کی نگرانی کے لیے جدید کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں اور سرحدی گارڈز میں فائرنگ کے تبادلے میں اس سال کے آغاز میں تین گارڈ ہلاک ہو گئے تھے۔ لیکن یہ خطرہ اندرونی سے زیادہ بیرونی ہے۔

اور سعودی اس بات پر سوال نہیں اٹھا رہے کہ اس کے لیے نظریہ ذمہ دار ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں