برطانیہ میں انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز

ڈیوڈ کیمرون تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ کیمرون ملکۂ برطانیہ کے ساتھ ملاقات کے بعد بکنگھم پیلس سے نکل کر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ جا رہے ہیں

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ انھوں نے ’ملک کو بدلنے‘ کا کام شروع کر دیا ہے اور وہ اس کا نتیجہ ’دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

اپنی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر وزیرِ اعظم نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ انھیں ووٹ دیں تاکہ معاشی بحالی کا عمل بحفاظت ہوتا رہے اور جس مظبوط قیادت کی ضرورت ہے وہ ملے۔

انھوں نے لیبر رہنما ایڈ ملی بینڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے آنے سے معیشت کے بحران کا خطرہ ہے۔

اس سے قبل برطانوی وزیرِ اعظم نے ملکۂ برطانیہ سے بکنگھم پیلس میں 10 منٹ تک ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ پارلیمان تحلیل کر دی جائے۔

یہ ان کی سات مئی کو ہونے والے انتخابات سے پہلے ملکۂ برطانیہ سے آخری ملاقات تھی۔

10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے وعدہ کیا کہ وہ اگلے 38 دنوں میں ملک کے چاروں کونوں میں انتخابی مہم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ انتخابات ہر پانچ سال کی کوششوں اور قربانیوں کے بعد آگے بڑھنے کا نام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ووٹروں کے پاس انھیں یا ایڈ ملی بینڈ کو منتخب کرنے کا مکمل اختیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ انتخابات اس وقت ہو رہے ہیں جب دنیا بے یقینی اور خطرے کا شکار ہے۔

’اس لیے ہمیں قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور اقتصادی سکیورٹی کے لیے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔‘

دوسری طرف لیبر رہنما ایڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی یا ’ٹوریز‘ برطانوی کمپنیوں کے لیے ایک واضع خطرہ ہیں۔

کاروباری دنیا کے لیے لیبر کی پالیسیاں بیان کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے خبردار کیا کہ وزیرِ اعظم کا یورپی اتحاد کی رکنیت کے متعلق ریفرنڈم کا وعدہ دراصل برطانوی اثر و رسوخ کے لیے ایک غیر معمولی خطرہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ کئی مہینوں کی غیر سرکاری مہم کے بعد برطانیہ میں پارلیمان تحلیل ہو جائے گی اور 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے لیے ساڑھے پانچ ہفتوں کی باقاعدہ مہم شروع ہو گی جس کے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ برطانیہ کی تاریخ کے سب سے غیر متوقع انتخابات میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔

ادھر نائب وزیرِ اعظم لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے نک کلیگ نے کہا ہے کہ انتخابی مہم میں ان کی جماعت ’مدلل مرکزی مقام‘ پر رہے گی۔

یو کپ کے رہنما نائیجل فراج کہتے ہیں کہ ان کی جماعت ایک ’ریڈیکل چوائس‘ ہے اور وہ پارٹی کے انتخابی وعدوں کے متعلق جلد ہی بتانے والے ہیں۔

اس دوران جب تک نئی انتظامیہ نہیں آ جاتی حکومتی وزرا اپنے اپنے محکموں کے سربراہ رہیں گے لیکن پارلیمان کے اراکین کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔

ان انتخابات میں معیشت اور سرکاری اخراجات میں کٹوتیاں، برطانیہ کی یورپی اتحاد کی رکنیت، این ایچ ایس کا مستقبل اور امیگریشن جیسے موضوعات انتخابی مہم کا مرکز رہیں گے۔

اسی بارے میں