’بمباری سے 40 یمنی پناہ گزین ہلاک، دو سو زخمی‘

یمن تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فضائی حملے سے کئی شہروں کو شدید نقصان پہنچا ہے

یمن میں سعودی قیادت میں عرب اتحاد کے جنگی جہازوں کے حملے جاری ہیں اور امدادی اداروں کے مطابق شمال مشرقی یمن میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ پر بمباری سے کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر عدن میں حوثی باغیوں اور سرکاری فوج کے مابین شدید لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

امدادی ادارے میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا کیمپ ملک کے شمال مشرقی صوبے حجہ میں واقع تھا اور اسے اتوار اور پیر کی درمیانی شب نشانہ بنایا گیا۔

ایم ایس ایف کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ادارے کے مینیجر پیبلو مارکو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ المزراک نامی کیمپ پر ’فضائی حملہ ہوا جس کے بعد 29 لاشوں اور 34 زخمیوں کو ہرادہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے‘۔

پیبلو مارکو نے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے ’اوچا‘ نے بھی پناہ گزینوں کے کیمپ کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے جبکہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 200 ہے۔

اے ایف پی کے مطابق المزراک نامی کیمپ 2009 سے قائم ہے اور یہاں حوثیوں اور حکومت کی لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد مقیم تھے۔ ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دن میں یہاں 500 سے زیادہ خاندان پہنچے تھے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں سعودی اور دیگر عرب طیاروں نے حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب کئی گھنٹے بمباری کی تھی۔

صنعا سے 150 کلو میٹر دور مشرق میں مارب کے علاقے کے علاوہ عدن اور الحديدہ کے ساحلی شہروں کو بھی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا۔

سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد نے کہا ہے کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ باغیوں کے ٹھکانے پر اس وقت تک حملے کرتے رہیں گے جب تک باغی ان علاقوں سے پیچھے نہیں چلے جاتے جہاں انھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

عدن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق باغیوں نے پیر کو شہر کے شمال مشرقی نواحی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔

اس پیش قدمی کے دوران شیعہ باغیوں اور صدر عبدربہ منصور ہادی کی حامی فوج کے مابین شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عدن میں بھی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں شناخت نہ ہونے والے کئی لاشیں پڑی ہیں۔

یمن میں کام کرنے والے امدادی اداروں نے لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے اپیل بھی کی ہے۔

بی بی سی عربی سروس کے مطابق یمنی ہلال احمر نے اپیل کی ہے کہ الحوطہ شہر میں پھنسے شہریوں کی فوری مدد کی جائے جنھیں اس کی اشد ضرورت ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں اور یمنی صدر ہادی کے حامیوں کے درمیان جنگ کی وجہ سے شہر میں گلیاں لاشوں سے بھری پڑی ہیں۔

حوطہ میں موجود ایک امدادی کارکن اور ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہاں ’کتے اور بلیاں مردہ جسموں کو کھا رہے ہیں۔‘

جنوبی شہر عدن میں بھی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں شناخت نہ ہونے والے کئی لاشیں پڑی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق یمن میں فوجی فضائی حملوں کے بعد کئی مقامات پر امدادی کارروائی بند کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ امدادی ایجنسیوں کی ایک بڑی تعداد گذشتہ برس ستمبر میں صنعا پر حوثی قبضے کے بعد وہاں سے چلی گئی تھی۔

اسی بارے میں