جوہری مذاکرت پر’اوباما اور کیری کا شکریہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہے

ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ کئی برسوں سے ہونے والے مذاکرات نازک موڑ میں داخل ہو گئے ہیں۔گو کہ منگل کی شب 31 مارچ کو جوہری معاہدے کی حتمی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے۔ نتائج جو بھی ہوں وہ ایران پر بہت زیادہ اثرانداز ہوں گے، یا تو پابندیاں ختم ہو جائیں گی یا پھر مزید سخت۔

ایران کی عوام نے بی بی سی فارسی کو جوہری مذاکرات کے بارے میں اپنی امیدوں اور خدشات سے آگاہ کیا۔

ایران کے علاقے اصفحان سے تعلق رکھنے والے آرش نے بتایا

’میں موبائل فون کی دکان چلاتا ہوں۔ جوہری مذاکرات کے حوالے سے ہر اچھی یا بری خبر سے ایرانی کرنسی میں ردوبدل آتا ہے اور قیمتیں بدل جاتی ہیں۔ لوگوں کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں پہلے ہی مندی ہے۔ اگر جوہری مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ایرانی کرنسی کی قدر کم ہوگی اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔اس سے میرا کاروبار اور متاثر ہو سکتا ہے۔‘

ایرانی شہری محمد کہتے ہیں کہ ’میں حکومت کے پیٹرو کیمکل پلانٹ میں کنٹریکٹر ہوں۔ میں معاہدے کے حوالے سے پرامید ہوں کیونکہ اس کے بعد سرمایہ کار ایران کے تیل اور پیٹرو کیمکل صنعت میں سرمایہ کاری کریں گے۔ پابندیوں کی وجہ سے وہ ہم پرزے اور مشینیں خرید نہیں پاتے اور اس سے ہماری پیدوار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں سے ایران کا تیل اور پیٹرو کیمکل کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے

لیلیٰ ایرانی ہیں لیکن وہ جرمنی میں رہتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ ایرانی ہونے کی حیثیت سے میں امریکی صدر براک اوباما اور وزیر خارجہ جان کیری کی شکرگزار ہوں کیونکہ وہ اسرائیل اور امریکی سینیٹ کے دباؤ کے باوجود معاہدے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ میری خیال میں مغرب نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایران کی طاقت کو تسلیم کر لیا ہے اور وہ کسی نتیجے پر پہچنا چاہتے ہیں۔‘

دارالحکومت تہران سے تعلق رکھنے والےعزیز جو کیمکل بنانے والی فیکٹری چلاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’پابندی نے ہمارے کاروبار میں بہت مسائل پیدا کیے۔مثال کے طور پر گذشتہ دس برسوں میں ہم اپنی مصنوعات برامد نہیں کر سکے۔ مجھے امید ہے کہ جوہری مذاکرت کامیاب ہوں گے اور مغربی ممالک کی پابندیاں جلد ختم ہو جائیں گی۔‘

تہران ہی سے تعلق رکھنے والے مہران جوہری مذاکرت کے حوالے سے زیادہ پر امید نہیں۔ مہران کے خیال میں ’مغربی ممالک ایک ساتھ پابندیاں نہیں اُٹھا سکتے، وہ ایران سے ضمانیتں مانگیں گے۔ایران کے وزیر خارجہ معاہدے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ پابندیوں نے ایران کی معیشت تباہ کر دی ہے۔‘

تہران سے کروش نے بتایا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی معاہدے پر پہنچ پائیں گے۔ امریکہ کو اپنی اچھی ساکھ کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔انھوں نے پابندیاں مرحلہ وار اُٹھانے کی تجویز دی ہے۔ گو کہ یہ واضع نہیں ہے کہ پہلا قدم کون اُٹھائے گا۔‘

امریکہ میں رہنے والے ایرانی نثراد جلیل کہتے ہیں کہ وہ معاہدے کے حوالے سے بہت پرامید ہیں۔

جیل کے مطابق ’ایران اور امریکہ کو بات چیت کرتے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کسی حتمی نتیجے تک پہچنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ میرے خیال میں امریکیوں کی اکثریت ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر اوباما کے پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی بارے میں