شام جانے والے نو برطانوی ترکی سے گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپ سے شام جا کر دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے والے اکثر یورپی جہادی ترکی سے ہو کر جاتے ہیں

ترکی میں فوج نے بتایا ہے کہ حکام نے نو ایسے برطانوی شہریوں کو حراست میں لیا ہے جو غیر قانونی طور پر شام جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان برطانوی شہریوں کو ترکی کے بارڈر کنٹرول کے ذمہ دار افسروں نے پکڑا۔ انھیں ترکی کے جنوب میں ہیٹے کے مقام سے حراست میں لیا گیا جہاں ترکی اور شام کی سرحد ملتی ہے۔ یہ تمام افراد حکام کی تحویل میں ہیں۔

برطانیہ میں دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہےکہ ان اطلاعات کے بارے میں مزید پتہ چلایا جا رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق جب سے شام میں جنگ کا آغاز ہوا ہے، برطانیہ کے تقریباً چھ سو شہریوں نے وہاں کا سفر کیا ہے تا کہ وہ لڑائی میں شریک ہو سکیں۔ میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے آدھے افراد برطانیہ واپس آ چکے ہیں۔

اکثر برطانوی شہریوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے شام کا سفر اس لیے کیا کہ وہ شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے ساتھ مل کر لڑیں۔ دولتِ اسلامیہ کے پاس شام کے ایک بڑے علاقے کا کنٹرول ہے جس میں ترکی اور شام کی سرحد کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔

ان تازہ ترین حراستوں کا واقعہ گذشتہ ماہ برطانیہ ہی کے تین شہریوں کو روکے جانے کے بعد پیش آیا ہے جو ترکی سے شام کا سفر کر رہے تھے۔

شمالی لندن کے یہ تین برطانوی شہری جن میں سے دو کی عمریں 17 اور ایک کی 19 سال ہے، اس وقت گرفتار کیے گئے جب برطانیہ کی پولیس نے ترکی میں حکام کو ان کے بارے میں خفیہ اطلاع فراہم کی۔ ان تینوں کو بعد میں برطانیہ واپس لایا گیا اور آج کل وہ پولیس کی ضمانت پر ہیں۔

ایک ترک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تینوں نوجوان سپین کے شہر بارسلونا سے ترکی گئے تھے اور انھیں استنبو ل کے سبیحا گوسن ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں ترک اور برطانیہ کی پولیس کے درمیان الزام تراشیوں کے بعد ہوئی تھیں جو اس وقت شروع ہوئیں جب لندن کےایک سکول کی تین طالبات اچانک لاپتہ ہوگئی تھیں۔

یہ تینوں طالبات لندن سے ہوائی جہاز پر فروری میں استنبول پہنچیں جہاں سے خدشہ ہے کہ انھیں سرحد پار شام بھیج دیا گیا۔

ان کے لاپتہ ہونے پر برطانیہ کی پولیس اور ترکی کے نائب وزیرِ اعظم کے درمیان عدم اتفاق ہوگیا تھا کیونکہ ترکی نے کہا تھا کہ برطانیہ کی پولیس نے اسے ان لڑکیوں کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں دی تھی۔

اسی بارے میں