امریکہ نے مصر سے عسکری پابندیاں ہٹالیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصر میں فوج کے ذریعے حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد سے امریکہ نے مصر کو دی جانے والی عسکری اور دوسری امداد بند کر دی تھی

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے مصری ہم منصب عبدالفتح السیسی سے کہا ہے کہ امریکہ مصر کے لیے تمام فوجی امداد بحال کر رہا ہے۔

منگل کو ٹیلی فون پر صدر اوبامانے السیسی کو بتایا کہ ایف -16 طیارے، میزائلز اور ایم ون اے ون ٹینک مصر کو دیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2013 میں فوج کے ہاتھوں مصر کے منتخب صدر محمد مرسي کو اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد امریکہ نے مصر کو دی جانے والی فوجی امداد روک دی تھی۔

مصر یمن میں سعودی مداخلت میں اتحادی ہے جبکہ وہ لبیا میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف بھی لڑ رہا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے اکتوبر سنہ 2013 میں کہا تھا کہ وہ بعض بڑے فوجی نظام اس وقت تک مصر کو فراہم نہیں کرے گا جب تک کہ وہاں جمہوریت کی بحالی میں پیش رفت نہیں دیکھی جاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوباما نے سنہ 2009 میں مصر کا دورہ کیا تھا

لیکن منگل کو صدر نے کہا کہ جیٹ طیارے، میزائل اور ٹینک کٹ کی فراہمی کو بحال کیا جائے گا جبکہ اپاچی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی دسمبر میں ہی شروع ہو گئی تھی۔

انھوں نے مصری رہنما کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ امریکہ مصر کو ایک ارب 30 کروڑ امریکی ڈالر کی امداد بھی بحال کرے گا۔ مصر کو امریکہ یہ امداد سالانہ طور پر دیتا آ رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر نے واضح کیا کہ یہ اور دوسرے اقدام ایک غیر مستحکم خطے میں مصر اور امریکہ کو درپیش مشترکہ چیلنج کے پیش نظر ہمارے فوجی امداد پر مبنی رشتے کو بہتر بنانے میں امداد فراہم کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عبدالفتاح السیسی فوجی بغاوت کے نتیجے میں سنہ 2013 میں برسراقتدار آئے تھے

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر اوباما نے مصر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ یہ امداد اس وقت بجال کی جا رہی ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی سے لڑنے کے لیے مصر نے عرب فوجی اتحاد قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

اسی بارے میں