ایران جوہری معاہدے کے ’تاریخی‘ فریم ورک پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف سوئٹزرلینڈ میں یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ فیڈریکا موگیرینی کے ہمراہ بیان دیتے ہوئے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں مذاکرات کے طولانی سلسلے کے بعد ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں معاہدے کے ڈھانچے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اسے ایک تاریخی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس پر عمل ہوا تو دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ان کے ملک کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔

عبوری جوہری سمجھوتے پر ایران میں جشن

ایک معاہدہ جس نے ایران کو کچھ وقت دلا دیا

معاہدے کے تحت ایران نے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں کمی لانے کے لیے سینٹری فیوجوں کی تعداد میں دو تہائی کمی پر اصولی اتفاق کیا ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے پاس اس وقت موجود یورینیئم کا زیادہ تر ذخیرہ تلف کر دیا جائے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔

لوزین میں آٹھ دن کی گفت و شنید کے بعد ایران اور یورپی یونین نے فریم ورک پر اتفاقِ رائے کا اعلان کیا جبکہ جامع جوہری معاہدہ 30 جون تک تشکیل دے دیا جائے گا۔

معاہدے کے بعد ایرانی عوام نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا ہے۔

اتفاقِ رائے کے اعلان کے تھوڑی دیر بعد امریکی صدر براک اوباما نے اپنے خطاب میں اس ’تاریخی معاہدے‘ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے عمل درآمد پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور ’اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو دنیا جان جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اعتماد پر نہیں بلکہ ’غیر معمولی تصدیق‘ کے عمل پر قائم کیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ فریم ورک پر مہینوں کی ’سخت اور اصولی سفارت کاری کے بعد اتفاق ہوا ہے اور یہ ایک عمدہ معاہدہ ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ اگر حتمی معاہدہ بھی طے پاتا ہے تو ہم اپنی سلامتی کو لاحق سب سے بڑے خطروں میں سے ایک کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔‘

امریکہ کے مطابق اس معاہدے کے خاکے میں درج ذیل شرائط شامل ہیں:

  • ایران اپنے سینٹری فیوجوں میں دو تہائی کمی لائے گا اور اپنے ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیئم کو بھی کم کرے گا
  • ایران کے فالتو سینٹری فیوج اور افزدوگی کی تنصیبات پر عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی آئی اے ای اے نظر رکھے گا
  • آئی اے ای اے ایران کی تمام جوہری تنصیبات کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی رہے گی۔
  • ایران اپنے ارک میں واقع بھاری پانی کے ری ایکٹر میں ایسی تبدیلیاں کرے گا کہ وہاں ہتھیار بنانے کے اہل پلوٹونیئم نہ بنایا جا سکے۔
  • ایران پر عائد امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، لیکن اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو انھیں دوبارہ عائد کر دیا جائے گا۔
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تہران کے باسیوں نے فریم ورک پر اتفاق کی خبر سنتے ہی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا

ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مغربی ممالک نے ایران کی جانب سے جوہری بم بنانے کے خدشے کے پیشِ نظر اس پر سنگین پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

ایران مذاکرات کے ذریعے ان پابندیاں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔

ایران نے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں پی پلس فائیو سے مذاکرات کیے۔ یہ ممالک کا ایک گروہ ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، چین، روس ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ یہ مذاکرات 31 مارچ کو ختم ہو جانا چاہیے تھے لیکن بعد میں ان کی حتمی مہلت میں توسیع کرنا پڑی۔

سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا: ’حل تلاش کر لیا گیا ہے، فوری طور پر مسودے پر کام شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

جرمنی کی وزارتِ خارجہ نے ٹوئٹر ہی پر کہا: ’معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے۔‘ جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ٹویٹ کیا: ’بڑا دن۔۔۔ حتمی معاہدے کے لیے کام شروع۔‘

تاہم اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے ٹوئٹر ہی پر کہا: ’کوئی بھی معاہدہ ہو، اس میں ایران کے جوہری پروگرام کی صلاحیتوں کو خاصی حد تک رول بیک کرنا اور اس کی دہشت گردی اور جارحیت کو ختم کرنا لازمی ہو گا۔‘

بعدازاں انھوں نے امریکی صدر براک اوباما سے فون پر بات کی اور کہا کہ اگر طے شدہ ڈھانچے پر معاہدہ ہوتا ہے تو وہ اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو یقین دلایا کہ ’معاہدہ کسی طرح سے بھی دہشت گردی کی پشت پناہی اور اسرائیل کو لاحق خطرات کے حوالے سے ایران کے بارے میں امریکہ کے خدشات کو کم نہیں کرتا۔‘

امریکی کانگریس میں حزبِ مخالف کے ارکان نے بھی اس عبوری معاہدے پر تنقید کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس کے اراکین کو حتمی معاہدے کے جائزے کا حق دیا جائے۔

ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بوہینر نے کہا کہ یہ معاہدہ صدر اوباما کے اصلی مقاصد سے مختلف ہے اور ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے سے قبل کانگریس کو معاہدے کا جائزہ لینا چاہیے۔

اسی بارے میں