یمن میں سعودی کارروائی کی آخر حد کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی قیادت میں ہونے والے فضائی حملوں سے بھی حوثی قبائل کی پیش قدمی نہیں رکی

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی یمن کے حوثی قبائل کے خلاف کارروائی کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن فضائی حملوں میں کمی کے ابھی کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

منگل کی رات ایک ڈیئری فیکٹری پر حملے میں کم از کم 35 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ شبہ تھا کہ فیکٹری میں باغیوں نے اپنا اسلحہ چھپا رکھا تھا۔

یونیسف کے مطابق گذشتہ ہفتے میں کم از کم 62 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ سو سعودی عرب ان حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ لڑائی کب ختم ہو گی؟

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے منگل کو کہا تھا کہ یہ مہم اس وقت تک چلے گی جب تک جائز حکومت کو اقتدار واپس نہیں مل جاتا۔

حکومت اب جلا وطن ہے اور اس کے صدر عبدربہ منصور ہادی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی عرب کے مہمان ہیں۔

یمن کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کو زمینی کارروائی کر کے اس علاقے میں واپس پسپا کر دیا جائے جہاں وہ ستمبر سے پہلے تھے۔ سعودی عرب نے ابھی اس امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

لندن میں سعودی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ’تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔‘

ریاض کے ہوائی اڈے پر سعودی ملٹری ہر شام پریس بریفنگ دیتی ہے۔ ان کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العصیری عربی، انگریزی اور فرانسیسی میں سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔

جہازوں کے کاک پٹ سے کھینچی گئی تصاویر میں فضا سے زمین پر مار کرتے میزائل یمن کے مختلف علاقوں میں اپنے اہداف کو تباہ کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

پاور پوائنٹ سلائیڈ پر 10 ملکی اتحاد کے فضائی حملوں کے مقاصد دیکھے جا سکتے ہیں کہ وہ حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں:

  • سکڈ میزائل
  • ایئر ڈیفنس میزائل
  • اسلحہ رکھنے کے ڈپو
  • حرکت کرتے فوجی
  • باغیوں کی سپلائی لائن

اور آخر میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان 1,000 کلو میٹرلمبی سرحد کی نگرانی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اگر یمن کی جنگ طول پکڑ جاتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ عالمی رنگ اختیار کر جائے

زیادہ تر حکومت کے کنٹرول میں پریس اس مہم کی واضح طور پر حمایت کر رہی ہے۔ بدھ کے سعودی عرب کے اخبار عرب نیوز کے ادارتی صفحے پر ایک شہ سرخی تھی کہ ’وہ اسی کے مستحق تھے‘ اور اس کے ساتھ ایک بڑے کارٹون میں جنگی جہازوں کے ڈر سے صحرا میں چوہوں کو ادھر ادھر بھاگتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ایک سعودی صحافی نے مجھے بتایا کہ ’ہم اسے اپنے ہمسائے یمن کے لیے برادرانہ حمایت سمجھتے ہیں۔‘

سعودی فضائیہ کی یہ کارروائی 26 مارچ کو شروع ہوئی جسے خلیجی عرب ممالک اور امریکی انٹیلیجنس کی حمایت حاصل ہے۔

یمنی فضائیہ کے وہ تمام طیارے جن کے ذریعے باغیوں نے عدن میں اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ صدر کے محل پر بمباری کی تھی اب تباہ کر دیے گئے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ سکڈ میزائل بھی جو 1994 کی خانہ جنگی میں استعمال کیے گئے تھے اور جن کے متعلق سعودی عرب کو خدشہ تھا کہ وہ اس کے شہروں پر بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باوجود فضائی حملوں کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے اتحادی حوثی قبائل بدھ کی رات عدن کی بندرگاہ میں داخل ہو گئے تھے۔

اس ہفتے انھوں نے عدن کے مشرق میں بحیرۂ ہند کی بندرگاہ شکرا پر بھی قبضہ کر لیا۔

ان کے فوجی ٹھکانے، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور سپلائی لائنز بری طرح تباہ ہو چکی ہیں اور اس کے باوجود وہ یمن کے مغربی حصے کے کافی زیادہ علاقے کا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں اور یہ وہ جگہ ہے جہاں زیادہ تر آبادی ہے۔

اس سے سعودی عرب کی قیادت کے اتحاد کو درپیش مشکل نظر آتی ہے۔ اگر فضائی کارروائی حوثیوں کو واپس بھیجنے میں اور اقتدار میں حصہ داری میں ناکام رہتی ہے، تو پھر وہ کیا کریں گے۔

سعودی اور مصری نیوی نے پہلے ہی باب المندب کے اہم سمندری راستے کو محفوظ بنا لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یمن کے خلاف سعودی کارروائی کو سعودی میڈیا کی مکمل حمایت حاصل ہے

سعودی سپیشل فورسز صدر ہادی اور دیگر لوگوں کو بچانے کے لیے زمین پر تھوڑی دیر کے لیے تو گئی تھیں لیکن مکمل زمینی کارروائی بلکہ ایک محدود زمینی حملے سے بھی جنگ کی صورتِ حال مختلف شکل اختیار کر جائے گی۔

یمن میں فوج لے جانے کے بڑے خطرات ہیں، فوجی اعتبار سے بھی اور سفارتی اعتبار سے بھی۔ یہ زمینی لڑائی کے لیے ایک مشکل ملک ہے جس میں کافی پہاڑی سلسلے ہیں۔ اس سے سپلائی لائن لمبی ہو جائے گی اور اس سے بڑھ کر ہر چڑھائی کرنے والی فوج کی مزاحمت کی جائے گی، چاہے یہ یمن کے وزیرِ خارجہ نے ہی بلائی ہو۔

اور حوثیوں کے حمایتی بھی بہت ہیں۔ حوثی یمن کی ایک تہائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور صنعا میں حالیہ ریلی میں ہزاروں افراد نے سعودی فضائی حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔

اور اگر زمینی حملہ کامیاب ثابت نہ ہوا اور یہ حوثیوں کو واپس بھیجنے اور جائز حکومت کو حکومت واپس دلانے جیسے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس سے تیل کی دولت سے مالا مال ملک کی حدیں ظاہر ہو جائیں گی کہ وہ کیا کچھ کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔

سعودی اہلکار اب ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ حوثی باغیوں کی پشت پر اس کا ہاتھ ہے۔

اگرچہ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ یمن کی ساحل کے قریب ایران کے اسلحے کے جہاز پکڑے گئے ہیں اور تہران حوثی باغیوں کو تربیت دیتا ہے، لیکن زمین پر جنگ میں حوثی باغیوں کے لیے سابق یمنی صدر کی حمایت کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔

عبداللہ صالح کے ابھی بھی ہزاروں ریپبلیکن گارڈز وفادار ہیں اور وہ 2011 میں صدر ہادی کو اقتدار دینے کے بعد بھی یمن چھوڑ کر نہیں گئے۔

یہ جنگ جتنا طول پکڑے گی اتنا ہی خدشہ ہے کہ یہ بین الاقوامی رنگ اختیار کرتی جائے گی۔ سب سے خطرناک صورتِ حال یہ ہو گی کہ اگر ایران اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرتا ہے تو سعودی فورسز کا سامنا ایرانی فورسز سے ہو۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کا فائدہ القاعدہ اور داعش کو ہو سکتا ہے اور وہ یمن کے زیادہ حصے پر قبضہ کر سکتے ہیں، مزید کیمپ بنا سکتے ہیں، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ سے مزید لوگ بھرتی کر سکتے ہیں اور زیادہ عالمی حملوں کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں