’سو سالہ ٹین ایجر‘ چل بسی

Image caption ہیلی اوکائنز اور ان کے خاندان نے پروجیریا مرض کے بارے میں آگہی پھیلانے کے لیے کوششیں کیں

ہیلی اوکائنز نامی ایک برطانوی لڑکی 17 برس کی عمر میں فوت ہو گئی ہے جسے ایک نایاب جینیاتی مرض کی وجہ سے ’سو سالہ ٹین ایجر‘ کہا جاتا تھا۔ اس مرض میں اس کے جسم کی نشو و نما عام رفتار سے آٹھ گنا زیادہ تیزی سے ہوتی تھی۔

ہیلی نے اپنے مرض پروجیریا کے بارے میں آگہی پھیلانے کی کوششیں کیں۔ اں کی ماں کیری نے کہا کہ وہ جمعرات کی رات کو چل بسیں۔

انھوں نے لکھا: ’میری بچی کسی اچھی جگہ چلی گئی ہے۔ اس نے جمعرات کی رات نو بج کر 39 منٹ پر آخری سانس لی۔‘

ان کے والد نے کہا کہ انھیں نمونیا تھا، اور وہ اسی رات ہسپتال سے واپس آئی تھیں جس رات وہ فوت ہوئیں۔

ہیلی نے 14 برس کی عمر میں اپنی آپ بیتی شائع کروائی، اور وہ اپنے مرض کے بارے میں آگہی پھیلانے کے لیے مختلف پروگراموں میں جایا کرتی تھیں۔

ہیلی کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ 13 برس سے زیادہ زندہ نہیں رہیں گی، لیکن انھوں نے امریکہ میں تجرباتی علاج کروایا۔

پروجیریا کے شکار مریضوں میں عمررسیدگی کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور انھیں دل کی بیماری، بال گرنا، اور جسم سے چربی کا اخراج وغیرہ جیسے عوارض لاحق ہو جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں 124 بچے اس مرض کا شکار ہیں۔

پروجیریا ریسرچ فاؤنڈیشن نے اپنے فیس بک کے صفحے پر لکھا: ’تمام پروجیریا فیملی ماتم کناں ہے اور ذہین، حسین اور پرجوش ہیلی اوکائنز کو الوداع کہتی ہے۔‘