برطانیہ میں دہشت گردی کے الزام میں چھ افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ PA

برطانیہ میں ویسٹ مڈلینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ساحلی شہر ڈوور سے چھ افراد کو حراست میں لیا ہے جن پر شام سے متعلق دہشت گردی کا شبہ ہے۔

پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان چھ افراد میں پانچ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ پولیس نے ان کی عمریں 20 اور 30 برس کے درمیان بتائی ہیں اور کہا ہے کہ انھیں جمعے کو برطانیہ کے وقت کے مطابق آٹھ بجے صبح کینٹ کی بندرگاہ کے روانگی والے حصے سے حراست میں لیا گیا۔

اس سلسلے میں برمنگھم شہر میں کئی گھروں میں تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں پہلے سے جاری تحقیقات کا حصہ ہیں۔ مشتبہ افراد ایک خاندان کے نہیں ہیں اور ان کے ہمراہ بچے نہیں تھے۔

زیرِ حراست افراد میں سے چار کا تعلق برمنگھم سے ہے اور یہ چاروں 20 برس سے اوپر کے ہیں۔

ایک 26 سالہ شخص ایک 23 سالہ خاتون کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کے کوئی مستقل پتے نہیں ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو اس گروپ سے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔

گذشتہ روز ترکی میں فوج نے بتایا تھا کہ حکام نے نو ایسے برطانوی شہریوں کو حراست میں لیا ہے جو غیر قانونی طور پر شام جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

برطانیہ میں دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہےکہ ان اطلاعات کے بارے میں مزید پتہ چلایا جا رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق جب سے شام میں جنگ کا آغاز ہوا ہے، برطانیہ کے تقریباً چھ سو شہریوں نے وہاں کا سفر کیا ہے تا کہ وہ لڑائی میں شریک ہو سکیں۔ میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے آدھے افراد برطانیہ واپس آ چکے ہیں۔

اکثر برطانوی شہریوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے شام کا سفر اس لیے کیا کہ وہ شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے ساتھ مل کر لڑیں۔ دولتِ اسلامیہ کے پاس شام کے ایک بڑے علاقے کا کنٹرول ہے جس میں ترکی اور شام کی سرحد کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں