’66 روز کچی مچھلی، بارش کے پانی پرگزارہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کوسٹ گارڈز نے لوئی کو جرمن بحری جہاز سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ورجینیا میں ہسپتال منتقل کیا

بحرِ اوقیانوس میں تین ماہ تک بھٹکتے رہنے والے امریکی شخص کو بالاخر بچا لیا گیا ہے۔

37 سالہ لوئی جورڈن کو امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے ساحل سے دو سو میل دور کھلے سمندر میں ایک جرمن آئل ٹینکر نے تلاش کیا۔

جورڈن اپنی 35 فٹ لمبی کشتی ’اینجل‘ پر مچھلیاں پکڑنے سمندر میں گئے تھے اور انھیں آخری بار 23 جنوری کو دیکھا گیا تھا۔

لوئی کے اہلِ خانہ نے رواں برس جنوری میں ہی ان کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوائی تھی۔

جب جرمن جہاز ان کے قریب پہنچا تو وہ اپنی الٹی ہوئی کشتی کے اوپر بیٹھے تھے۔

یہ تاحال واضح نہیں کہ ان کی کشتی کیسے تباہ ہوئی تاہم امریکی میڈیا کے مطابق کشتی کا مستول دو ٹکڑے ہوگیا تھا۔

لوئی کا کہنا ہے کہ وہ 66 دن کے دوران کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر زندہ رہے۔

جرمن جہاز پر پہنچنے کے بعد جب لوئی نے اپنے والد سے بات کی تو انھوں نے کہا ’میں تو سمجھ بیٹھا تھا کہ ہم نے تمھیں کھو دیا ہے۔‘

بات چیت میں جہاں لوئی نے اپنے والد کو اپنی خیریت سے مطلع کیا وہیں ان سے کشتی واپس نہ لانے پر معذرت بھی کی۔

امریکی کوسٹ گارڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے لوئی کو ’ہیوسٹن ایکسپریس‘ نامی جرمن بحری جہاز سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ورجینیا میں ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں موسم کی سختیاں برداشت کرنے کی ایسی مثال کم ہی ملتی ہے۔