کینیا کی صومالیہ میں الشباب کے ٹھکانوں پر بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدت پسند تنظیم الشباب نے جمعے کو ملک کے شمال مشرقی علاقے میں ایک یونیورسٹی پر حملے کیا تھا جس کے نتیجے میں 147 افراد ہلاک ہو گئے تھے

کینیا کے فوجی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے صومالیہ میں شدت پسند تنظیم الشباب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ترجمان کے مطابق جنگی طیاروں نے الشباب کے زیرِ استعمال دو کیمپوں کو نشانہ بنایا۔

شدت پسند تنظیم الشباب کی جانب سے جمے کو ملک کے شمال مشرقی علاقے میں ایک یونیورسٹی پر حملے کے نتیجے میں 148 افراد کی ہلاکت کے بعد یہ کینیا کی پہلی کارروائی ہے۔

کینیا کے صدر کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم الشباب کی جانب سے کیے جانے والے حملے کا ’ہر ممکن‘ جواب دیا جائے گا۔

کینیا کے فوجی ترجمان ڈیوڈ ابونویو نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج نے شدت پسندوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد اتوار کی رات فضائی کارروائی کی۔

فوجی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کارروائی کی مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

اس سے پہلے جمعے کو شدت پسند تنظیم الشباب نے ملک کے شمال مشرقی علاقے میں ایک یونیورسٹی پر حملے کیا تھا جس کے نتیجے میں 147 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پانچ مسلح حملہ آوروں نے صومالیہ کی سرحد کے نزدیک گیریسا شہر کی یونیورسٹی میں گھس کر مسلم اور غیر مسلم طلبہ کو علیحدہ کر کے 15 مسلمان طلبہ کو یونیورسٹی سے نکلنے کی اجازت دی تھی۔

حملہ آوروں نے یونیورسٹی کی حفاظت پر مامور دونوں سکیورٹی گارڈز کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔

الشباب نےاس سے پہلے بھی کئی بار کینیا میں ایسےحملے کیے ہیں۔

الشباب کے جنگجوؤں نے سنہ 2013 میں نیروبی کے معروف شاپنگ مال، ویسٹ گیٹ میں حملہ کر کے 67 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں