اقوامِ متحدہ کا یرموک میں رسائی دینے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یرموک میں یکم اپریل کو دولتِ اسلامیہ کے حملے کے بعد سے صورت حال انتہائی خراب ہے

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک میں انسانی امداد کی رسائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اہلکار نے 18000 نفوس کے اس کیمپ میں صورت حال کو ناگفتہ بہ قرار دیا ہے۔

یہاں یکم اپریل کو دولتِ اسلامیہ کے حملے کے بعد سے صورت حال انتہائی خراب ہے۔

فلسطینی ملیشیا کے ارکان شامی حکومت کے مخالف ہیں جبکہ فری سیریئن آرمی کے بعض ارکان دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کی قیادت کر رہے ہیں۔

15 رکنی سلامتی کونسل میں اردن کی سفیر دینا کور نے ’شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد اور جان بچانے کے لیے امداد‘ کا مطالبہ کیا۔

سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں فلسیطنی امدادی ایجنسی انورا نے کیمپ میں صورت حال کو ہمیشہ سے زیادہ خراب قرار دیا۔

اس موقعے پر فلطسینی سفیر ریاض منصوری نے کہا کہ فلسطینی مہاجرین کا تحفظ حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔

انھوں نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ اس کیمپ کے مہاجرین کو یا تو شام میں کسی دوسری جگہ یا کسی دوسرے ملک میں منتقل کیا جائے۔

فلطسینی لبریشن آرگنائزیشن کے اہلکار احمد مجدلانی کا کہنا تھا کہ ایک وفد دمشق گیا ہے کہ تاکہ شامی حکومت سے انسانی امداد کے لیے رسائی کے حوالے سے مذاکرات کیے جا سکیں۔

Image caption اتوار ہو جاری رہنے والے شدید لڑائی پیر کے روز وقفے وقفے سے جاری رہی

انورا کے ہی ایک اہلکار کرس گنیز کا کہنا تھا کہ ’کیمپ میں صورت حال انسانیت سے پرے ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’وہاں نہ خوراک ہے، نہ پانی اور بہت کم دوائیں ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں مقید ہیں۔ سڑکوں پر لڑائی ہو رہی ہے۔ وہاں بمباری کی بھی اطلاعات ہیں۔ یہ سب رکنا چاہیے اور شہریوں کو وہاں سے نکلنا چاہیے۔‘

اتوار ہو جاری رہنے والے شدید لڑائی پیر کے روز وقفے وقفے سے جاری رہی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ کی حمایت یافتہ نصرہ فرنٹ جو ملک کے دیگر حصوں میں ایک دوسرے کے خلاف پرسِ پیکار ہیں ، یہاں یرموک میں مل کر لڑ رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے اختتام پر چند سو افراد کیمپ سے نکلنے میں کامیاب رہے۔

شام میں جاری خونی خانہ جنگ کو پانچواں برس شروع ہو چکا ہے اور اب تک اس میں دو لاکھ شامی ہلاک ہو چکے ہیں۔

شامی صدر بشار الاسد کی حامی فوج اور ان کے مخالف باغیوں اور اب دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑائی میں ایک کروڑ دس لاکھ شامی افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

یرموک کیمپ سنہ 1948 میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد نقل مکانی کرنے والے فلطیسنیوں کے لیے پہلی بار قائم کیا گیا تھا۔

شامی کی خانہ جنگی شروع ہونے سے قبل یہاں ڈیڑھ مہاجر رہتے تھے یہاں مساجد، سکول اور عوامی عمارتیں تھیں۔ لیکن لڑائی کے باعث اس کیمپ کا محاصرہ کر لیا گیا۔

اسی بارے میں