دولت واقعی کمینگی سکھاتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زیادہ دولت آ جانے سے آپ دوسروں کی پروا کم کرتے ہیں

ہالی وڈ ہمیشہ سے ایسی فلمیں بناتا رہا ہے جن میں کبھی تو ہمیں کسی عمر رسیدہ شحض کی تنگ دلی اور کنجوسی دیکھنے کو ملتی ہے اور کبھی نیویارک کی سٹاک مارکیٹ میں بیٹھا ہوا کوئی بھیڑیا دکھائی دیتا ہے جسے صرف اپنی دولت میں اضافے سے غرض ہوتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فلمی کردار حقیقت سے کتنے قریب ہوتے ہیں۔ کیا دولت واقعی آپ کو کمینہ بنا دیتی ہے؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے معاشرتی رویوں پر تحقیق کرنے والے ماہر نفسیات پروفیسر پال پِف نے ہالی وڈ کے قریبی شہر لاس اینجلس کا رخ کیا۔

ہم نے دیکھا کہ پروفیسر پِف ساحل سمندر کے ساتھ کھجور کے درختوں میں گِھری ہوئی طویل سڑک کے کنارے راہداری پر مسلسل چہل قدمی کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امیر ہونے سے فراخدل اور سخی ہونے کی بجائے آپ کا اخلاق خراب ہو سکتا ہے

ہالی وڈ کے ارد گرد کے علاقے میں امیر لوگوں کی اتنی بہتات ہے کہ ہر تھوڑی دیر بعد آپ کو دنیا کی مہنگی ترین کار پاس سے گزرتی دکھائی دیتی ہے۔ مہنگی کاروں کے اس نظارے میں خوبصورت فور ویل ڈرائیو، انواع و اقسام کی سپورٹس کاریں اور شاندار ہائیبرڈ گاڑیاں سبھی سب شامل ہوتی ہیں۔

پرفیسر پِف کے یہاں آنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ پیدل سڑک عبور کرنے والوں کا خیال کون کرتا ہے، مہنگی گاڑی والا امیر یا یا سستی گاڑی والا غریب ڈرائیور۔

قانون کے مطابق جوں ہی کوئی پیدل شخص زیبرا کراسنگ پر آتا ہے تو ڈرائیور سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ گاڑی روک لے گا، لیکن پروفیسر پِف کی تحقیق بتاتی ہے کہ سستی گاڑیاں چلانے والوں میں سے ہر ایک نے پیدل شخص کا احترام کیا جبکہ مہنگی گاڑیوں والے 50 فیصد ڈرائیوروں نے قانون شکنی کرتے ہوئے پیدل چلنے والوں کی کوئی پروا نہیں کی۔

اپنی تحقیق میں پروفیسر پِف نے مختلف پس منظر رکھنے والے کئی لوگوں سے یہ بھی پوچھا کہ کسی خاص صورت حال میں ان کا رد عمل کیا ہو گا۔ مثلاّ اگر مشہور بحری جہاز ٹائیٹینک غرق ہو رہا ہوتا اور جہاز کے قریب کھڑی لائف بوٹ پر صرف ایک شخص کی جگہ باقی ہوتی تو وہ کیا کرتے؟ کسی دوسرے شخص کو یہ جگہ دے دیتے یا سوال ختم ہونے سے پہلے ہی خود چھلانگ لگا کشتی پر سوار ہو جاتے؟

ماضی میں اکثریت کا خیال یہ رہا ہے کہ چونکہ غریب آدمی پر معاشی دباؤ زیادہ ہوتا ہے اور اسے مشکل صورت حال کا سامنا ہوتا ہے اس لیے وہ قانون شکنی سے پرہیز کرتا ہے۔ لیکن پِف کی تحقیق کے نتائج الٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زیادہ دولت آ جانے سے آپ دوسروں کی پروا کم کرتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں آپ کو اپنے ذاتی مفاد کو دوسروں کے فائدے پر ترجیح دینا کا حق حاصل ہو گیا ہے۔

آپ کس قدر کمینے ہیں؟

تقریباّ دس برس کی تحقیق کے بعد پِف اس متنازع نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امیر ہونے سے فراخدل اور سخی ہونے کی بجائے آپ کا اخلاق خراب ہو سکتا ہے اور آپ زیادہ تنگ دل ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب لوگوں کے پاس پیسہ کم ہوتا ہے تو وہ اپنے معاشرتی تعلقات اور دوستوں عزیزوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں

’دولت آنے کے بعد آپ اپنے مفادات، اپنی خواہشات اور اپنی بہتری کا سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

دولت آپ کو نفسیاتی اور ذہنی اعتبار سے دوسرے لوگوں سے دور کر دیتی ہے۔ آپ اپنے فائدے اور اپنے مقاصد کا سوچنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کی پروا کم ہی کرتے ہیں۔‘

اگر میں آپ کے ہاتھ میں ایک پنسل دوں اور آپ سے کہوں کہ آپ خود کو ایک دائرے کی شکل میں دکھائیں، تو آپ جتنے زیادہ امیر ہوں گے آپ کے اس دائرے کا سائز آپ کے ارد گرد کے چھوٹے چھوٹے غریب لوگوں کے دائروں کے مقابلے میں بڑا ہوتا جائے گا۔

پروفیسر پِف نے اپنی تجربہ گاہ میں مختلف تجربات بھی کیے جن سے ظاہر ہوا کہ جن لوگوں کے پاس زیادہ پیسے ہوتے ہیں ان کے دوسروں کو دھوکہ دینے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ امیر لوگ بچوں کے لیے پڑی ہوئی ٹافیاں اٹھا لیتے ہیں اور امیر شخص دوسروں کی مدد کے لیے کم وقت نکالتا ہے۔

پروفیسر پِف نے اپنی تحقیق میں علمِ نفیسات کی دنیا کا مشہور طریقہ بھی استعمال کیا جسے ’آمر کا امتحان‘ یا ’ڈکٹیٹر ٹیسٹ‘ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے لوگوں کا ایک گروپ لیا اور ان میں سے کچھ کو دس ڈالر فی کس دیے اور کہا کہ آپ چاہیں تو یہ سارے پیسے کسی کو دے دیں یا اس میں سے کچھ حصہ کسی دوسرے کو دے دیں اور چاہیں تو تمام پیسے کسی ایسے شخص کو دے دیں جسے کچھ بھی نہیں ملا۔

’معاشی عقل مندی کا تقاضا تو یہی تھا کہ غریب آدمی زیادہ پیسے اپنے پاس رکھتا اور امیر شخص دوسروں کو زیادہ پیسے دیتا لیکن ہم نے دیکھا کہ آپ جب زیادہ امیر ہوتے ہیں تو آپ کو زیادہ چیزوں پر اختیار حاصل ہو جاتا ہے لیکن آپ اپنی دولت کا بہت کم حصہ دوسروں کو دینے پر رضامند ہوتے ہیں۔‘

’غریب لوگ بہت فراخدل ہوتے ہیں اور غریب آدمی امیر کی نسبت 150 فیصد زیادہ دولت دوسروں کو دے دیتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر ٹائٹینک غرق ہو رہا ہو اور لائف بوٹ پر صرف ایک شخض کی جگہ ہو تو آپ کیا کریں گے؟

ان تجربات کے علاوہ پروفیسر پِف نے اپنی تحقیق میں مشہور کھیل ’مناپلی‘ کا بھی استعمال کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ درجنوں تجرباتی کھیلوں کے بعد ان پر واضح ہوا کہ جوں جوں آپ مناپلی جیتتے ہیں اسی قدر آپ کے اندر کمینگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ آپ پورے بورڈ پر قبضہ کر لیں۔ آپ زیادہ سے زیادہ علاقے کو اپنے زیرِ تسلط کرنا چاہتے ہیں اور حتیٰ کہ آپ پیالے میں پڑی ہوئی کھانے کے چیز بھی اڑا لیتے ہیں حالانکہ وہ پیالہ تمام کھلاڑیوں کا مشترکہ ہوتا ہے۔

اپنی تحقیق کے نتیجے میں پروفیسر پِف کا کہنا ہے کہ جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اب ہم امیر ہو گئے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں اب ہمیں دوسرے لوگوں کی اتنی زیادہ ضرورت نہیں رہی۔ حقیقی دنیا میں بھی جب لوگوں کے پاس پیسہ کم ہوتا ہے تو وہ اپنے معاشرتی تعلقات اور دوستوں عزیزوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اسی لیے غریب آدمی دوسروں کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔اس کے برعکس امیر لوگ اپنے لیے سکون کے لمحے اور خاموشی خرید سکتے ہیں اور اپنے مسائل کو خود ہی حل بھی کر سکتے ہیں۔ بھرے ہوئے بٹوے سے زیادہ کوئی چیز آپ کو خوش نہیں کرتی لیکن دولت آنے کے بعد آپ دوسروں سے دور ہو سکتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پروفیسر پِف کی تحقیق کے نتائح پڑھ کر ہم سب خوش ہو رہے ہیں۔ یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ وہ لوگ جو ہم سے زیادہ پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں انھیں بھی اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری نہیں کہ تمام لوگ پروفیسر پِف کے نتائج کو درست سمجھیں۔

اسی بارے میں