’دی انٹرویو‘ غباروں کے ذریعے شمالی کوریا بھیجی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مسٹر لی نے بتایا کہ انھیں دی انٹرویو پر ہنسی نہیں آئی لیکن وہ شمالی کوریا کے لوگوں کو ’سچ بتانا چاہتے ہیں‘

جنوبی کوریا کے ایک سرگرم سیاسی کارکن کا کہنا ہے کہ انھوں نے سونی پکچرز کی متنازع فلم ’دی انٹرویو‘ کی ہزاروں کاپیاں غباروں کے ذریعے سرحد پار شمالی کوریا روانہ کی ہیں۔

رضاکار لی من باک نے کہا کہ انھوں نےجنوری سے اب تک رات کے اوقات میں چار بار ایسا کیا ہے اور حال میں انھوں نے سنیچر کی شب کو یہ کام کیا۔

خیال رہے کہ سیتھ روگن کی یہ مزاحیہ فلم شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو قتل کرنے کے سی آئی اے کے افسانوی پلاٹ پر مبنی ہے، اور اس پر شمالی کوریا کی قیادت خاصی برہم ہو گئی تھی۔

سونی پکچرز نے ہیکنگ کے حملوں اور اس فلم کو دکھانے والے سینیما گھروں پر حملے کی دھمکی کے بعد ابتدا میں اس فلم کو نہ ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں فیصلہ بدل دیا۔

اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے سامنے جھکنے کے لیے اس کی تنقید ہوئی تھی اور پھر اس نے چنندہ سینیما گھروں میں فلم ریلیز کر دی تھی۔

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ہیکنگ اور دھمکیوں کا الزام شمالی کوریا پر لگایا لیکن شمالی کوریا اس کی تردید کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماضی میں بھی جنوبی کوریا والے شمالی کوریا میں غباروں کے ذریعے پرچیاں بھیجتے رہے ہیں

شمالی کوریا کے باغی کارکن مسٹر لی نے کہا کہ انھوں نے فلم کی ڈی وی ڈی کے ساتھ ساتھ امریکی ڈالروں کے بنڈل اور کم جونگ ان کی حکومت کی تنقید والے پرچے غباروں سے باندھ کر شمالی کوریا بھیجے۔

انھوں نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’میں نے (فلم کی) ہزاروں کاپیاں اور تقریباً دس لاکھ پرچے سنیچر کو ملک کے مغربی سرحدی علاقے میں بھیجے۔‘

انھوں نے کہا یہ تمام چیزیں بغیر کسی تشہیر کے دور دراز کے علاقوں میں گرائی گئیں تاکہ ’پولیس کو مجھے روکنے کا کوئی اختیار نہ رہے۔‘

مسٹر لی نے سی این این ٹی کو بتایا کہ انھیں دی انٹرویو پر ہنسی نہیں آئی اور انھیں یہ فلم بہت بھدی لگی۔

لیکن انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا اس فلم سے نفرت کرتا ہے کیونکہ ’کم جونگ ان کو کسی دیوتا کے بجائے ایک انسان کے طور پر دکھایا گیا ہے‘ اور یہ کہ وہ شمالی کوریا کے لوگوں کو ’سچ بتانا چاہتے ہیں۔‘

جس شمالی کوریائی باشندے کے پاس یہ ڈی وی ڈی ملے گی یا جس کے بارے میں یہ پتہ چل جائے گا کہ اس نے یہ فلم دیکھی ہے اسے جیل میں لمبی سزا مل سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیتھ روگن کی مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو قتل کرنے کے سی آئی اے کے افسانوی پلاٹ پر مبنی ہے

خیال رہے کہ جنوبی کوریا کے کارکن اس سے قبل بھی غباروں کے ذریعے سرحد پار چیزیں بھیجتے رہے ہیں جو ان کے مطابق اس پابندی عائد کرنے والے ملک کے باشندوں کو باہر کی دنیا کی حقیقت بتا سکیں۔

وہ یہ کام اس امید پر کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کے لوگوں کی ہمت افزائی ہو اور وہ حکومت کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی قیادت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

شمالی کوریانے اس اشتعال انگیز بتاتے ہوئے جنوبی کوریا پر اس طرح کے اقدامات سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماضی میں اس کی سرحدی سکیورٹی نے ایسے غباروں کو مار گرانے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا اس طرح کی سرگرمیوں کو غیر سود مند بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے سرحد کے پاس رہنے والے لوگ خطرے میں پڑ سکتے ہیں لیکن وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس کے شہری اپنے خیالات کی تشہیر کے مجاز ہیں۔

اسی بارے میں