بوسٹن دھماکوں کے مجرم پر تمام الزامات ثابت ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس مقدمے کی سماعت کے لیے ججوں کے انتخاب کے لیے دو ماہ سے زیادہ کا وقت لگا

امریکہ میں دو سال قبل بوسٹن میراتھن کی اختتامی لائن کے قریب بم نصب کرنے کے ملزم جوہر سارنیف کو 30 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

ان پر ثابت ہونے والے الزامات کی سزا موت ہے۔

اب میساچوسٹس کی ایک جیوری اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ 21 سالہ جوہر سارنیف کو کیا سزا دی جائے۔

اپریل 2013 میں نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ میں کیا جانے والا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔ ان دھماکوں میں 260 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے بہت سے لوگ اپنی ہاتھ پاؤں سے محروم ہوگئے تھے۔

دھماکے کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر مجروں کی تلاش شروع کی اور اس کا انجام جوہر سارنیف کی گرفتاری اور ان کے بڑے بھائی تیمرلان کی موت پر ہوا۔

جوہر کے وکیل کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان حملوں میں کردار تو ادا کیا تھا تاہم ان کے پیچھے ان کے بھائی کا ہاتھ تھا۔

اس کے بعد جوہر اور ان کے بھائی کی جانب سے فرار کی کوششوں کے دوران ہونے والے حملوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

عدالت میں جب فیصلہ سنایا جا رہا تو جوہر ہاتھ باندھے کھڑے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالت میں جب فیصلہ سنایا جا رہا تو جوہر ہاتھ باندھے کھڑے رہے

اس مقدمے میں جوہر کو سزا کا اب زیادہ امکان ہے کیونکہ ان کے وکیل نے یہ حیران کن بیان دیا کہ جوہر نے بم حملوں میں حصہ لیا تھا۔

یہ اعتراف دفاع کا حصہ تھا جس کے تحت جوہر کے بڑے بھائی تیمرلان کو ان حملوں کا بڑا منصوبہ ساز قرار دینا تھا۔

استغاثہ کے مطابق دونوں بھائی مسلمان ممالک میں جاری جنگوں کی سزا امریکہ کو دینے کے اس منصوبے کے برابر کی سطح کے مجرم ہیں۔

دونوں بھائیوں کا تعلق چیچنیا سے ہے اور ان کا خاندان بم حملوں سے دس برس قبل امریکہ منتقل ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چیچنیا سے تعلق رکھنے والے دونوں بھائیوں پر مسلمان ممالک کے خلاف امریکی فوج کی کارروائیوں کے بدلے میں بم دھماکے کرنے کا الزام ہے

اس مقدمے کی سماعت کے لیے ججوں کے انتخاب کرنے میں دو ماہ سے زیادہ کا وقت لگا۔

جیوری کے لیے 1300 لوگوں پر غور کیا گیا اور ان میں سے بیشتر کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ وہ پہلے ہی سے جوہر سارنیف کے جرم کے بارے میں اپنی رائے رکھتے ہیں یا ان کے جرم ثابت ہونے پر وہ انھیں سزائے موت دینے کی حمایت میں ووٹ دینے کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔

اسی بارے میں