سعودی عرب کا سویڈن سے بندر لینے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ماہ سعودی عرب نے حقوق انسانی کے مسئلے پر بات کرنے پر سویڈن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا

سعودی عرب نے سویڈن کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے باعث سویڈن کے ایک چڑیا گھر سے خریدے گئے ایمازون کے ننھے بندر لینے سے انکار کر دیا ہے۔

سکینسن کے چڑیا گھر میں موجود پگمی مارموسٹ نسل کے چار بندورں کو ریاض کے ایک چڑیا گھر بھیجا جانا تھا۔

تاہم سکینسن کے چڑیا گھر کے منتظم جونس والسٹارم کا کہنا ہے کہ ’سیاسی صورت حال کے باعث اب انھیں یہ بندر نہیں چاہییں۔‘

گذشتہ ماہ سعودی عرب نے اس وقت سویڈن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا جب سویڈن نے انسانی حقوق کے ایک تنازعے کے باعث سعودی عرب کے ساتھ اسلحے کا ایک معاہدہ ختم کر دیا تھا۔

محض ایک سو گرام سے ذرا کچھ زیادہ وزن کے یہ بونے مارموسٹ بندر دنیا کے سب سے چھوٹے بندر ہیں۔

سویڈن کے ریڈیو کے مطابق والسٹارم کے بقول ’یہ قدرے مزاحیہ بات ہے۔ مجھے صرف انتظار ہے کہ وہ کب سویڈن کے تاجروں کو دوبارہ ویزا جاری کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ان بندروں کو بھی اس وقت ویزا مل جائے۔‘

گذشتہ ماہ سعودی عرب نے سویڈن کی وزیرِ خارجہ مارگٹ والسٹورم کی ایک تقریر کو سعودی عرب کے داخلی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا تھا۔

سعودی عرب نے اس سے پہلے قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں انھیں تقریر کرنے سے روک دیا تھا۔

اپنی تقریر میں سویڈن کی وزیر خارجہ نے عرب قوم کے لیے ’تنظیمی، اسمبلی اور مذہب کی آزادی بالخصوص خواتین کے حقوق اور وسائل‘ میں ان کی مناسب نمائندگی کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں