امریکہ اور کیوبا کے وزرائے خارجہ کی ’تاریخی‘ ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بند کمرے میں ہونے والی اس بات چیت کی زیادہ معلومات منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے پانامہ میں کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو رودریگز سے ملاقات کی ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان نصف صدی سے زیادہ عرصے میں اعلیٰ سطح کے حکام کا پہلا باقاعدہ رابطہ ہے۔

ادھر امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کیوبا کا نام دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کی سفارش بھی کر دی ہے۔

اگر اس سفارش پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں کیوبا اور امریکہ میں ان دونوں ممالک کے سفارتخانے دوبارہ کھلنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

وزرائے خارجہ کی ملاقات پانامہ میں براعظم شمالی و جنوبی امریکہ کے 35 ممالک کی سربراہی کانفرنس کے آغاز سے قبل ہوئی ہے۔

بند کمرے میں ہونے والی اس بات چیت کی زیادہ معلومات منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔

ماضی میں کیوبا اور امریکہ کے اعلیٰ حکام 1959 میں ملے تھے جب فیدل کاسترو اور امریکہ کے نائب صدر رچرڈ نکسن کی ملاقات ہوئی تھی۔

اس ملاقات کے دو برس بعد فریقین نے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے اور اب گذشتہ برس ہی امریکہ کے موجودہ صدر براک اوباما نے باہمی تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولنے کی بات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیوبا کا نام فہرست سے نکالنے کی سفارش ایک ماہ تک ہونے والے تکنیکی جائزے کا نتیجہ ہے

براک اوباما خود بھی اس سربراہ اجلاس کے دوران پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر کیوبن رہنما راؤل کاسترو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

یہ دونوں رہنما جمعے اور سنیچر کو پانامہ میں براعظم شمالی و جنوبی امریکہ کے 35 ممالک کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی کیوبن رہنما آرگنائزیشن اف امریکن سٹیٹس کے سربراہ اجلاس میں شریک ہے۔

امریکی سینیٹ کی امورِ خارجہ کی کمیٹی کے رکن سینیٹر بین کارڈن نے کیوبا کا نام نکالنے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ایک اہم قدم ہے‘۔

کیوبا ایران اور شام کے ہمراہ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنھیں امریکہ بارہا عالمی دہشت گردی کا مددگار قرار دیتا رہا ہے۔

اس فہرست میں کیوبا کا نام پہلی بار 1982 میں شامل کیا گیا تھا جب اس نے باسک علیحدگی پسندوں اور کولمبیا کے فارک باغیوں کو پناہ کی پیشکش کی تھی۔

Image caption جنوبی افریقی رہنما نیلسن مینڈیلا کے جنازے پر بھی کاسترو اور اوباما کی ملاقات ہوئی تھی

سینیٹر کارڈن کا کہنا ہے کہ محکمۂ خارجہ کی جانب سے کیوبا کا نام فہرست سے نکالنے کی سفارش ایک ماہ تک ہونے والے تکنیکی جائزے کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کیوبا کے ساتھ ایک زیادہ ثمرآور تعلق بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔‘

اگر صدر اوباما اس سفارش کو قبول کر لیتے ہیں تو امریکی کانگریس کے پاس ان کے اس فیصلے کو رد کرنے کے لیے 45 دن کا وقت ہوگا۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس میں صدر اوباما کے کیوبا سے اچھے تعلقات قائم کرنے کے منصوبے کے کئی مخالفین موجود ہیں جن میں کیون نژاد امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز سرفہرست ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیوبا کو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا معاملہ سربراہی اجلاس کے دوران امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں