بغاوت انگیزی کے خلاف ملائشیا کا قانون مزید سخت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیراعظم نجیب رزاق کہتے ہیں کہ یہ قانون ہم آہنگی قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے

ملائشیا کی حکومت نے سرکشی پر مبنی تقاریر یا بیانات سے متعلق متنازع قانون کو مزید سخت کرنے کی منظوری دی ہے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے اس قانون پر پہلے ہی شدید تنقید کی جارہی ہے۔

جمعے کو ملائشیا میں پہلے سے موجود اس قانون میں ترامیم کی منظوری حکومت کے ماتحت چلنے والی پارلیمنٹ نے دی۔ فیصلے کے مطابق بغاوت پر اکسانے کے مجرموں کو کم ازکم تین سال کی سزا دی جائے گی۔

اگرچہ یہ قانون انتشار پر ابھارنے اور مذہبی کشیدگی بڑھانے کے اقدامات کے خلاف ہے، تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ یہ مبہم ہے اور اسے حکومت ان لوگوں کو خاموش کروانے کے لیے استعمال کر رہی ہے جو اس پر تنقید کرتے ہیں۔

اس ہفتے ملائشیا میں مقدمہ چلائے بغیر لامحدود مدت تک کسی شخص کو قید رکھنے کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع ہوا ہے۔ اس عمل کو 2012 میں ختم کر دیا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اسلامی انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے اسے انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے مسودے میں شامل کیاگیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اسے انسانی حقوق کے خلاف بڑا قدم قرار دیا ہے۔

بد سے بدتر قانون

Image caption حال ہی میں منظر عام پرآنے والی ایک طنزیہ فلم میں ملائشیا کے اسلامی قوانین پر بات کی گئی جس کے بعد ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی بحث چھڑ گئی

بغاوت انگیزی کے خلاف موجود قانون میں ترمیم جمعے کی صبح پارلیمان نے منظور کی۔ نوآبادیاتی نظام سے قبل پہلی بار باغیانہ اقدام کے مرتکب شخص کو زیادہ سے زیادہ تین سال قید یا پھر 1371 ڈالر جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔ دوسری بار اسے دہرانے والے کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال ہوتی تھی۔

لیکن اب نئی ترامیم قیدیوں کے لیے نہ صرف قید و جرمانے کی سزا ملے گی بلکہ ان کی جائیداد بھی ضبط کی جا سکے گی۔ قید کی مدت بھی بڑھا کر پانچ سے 20 سال تک کر دی گئی ہے۔

عام نوعیت کی شر انگیزی میں ملوث افراد کو تین سے سات سال کی قید ہو گی جس کے خاتمے کے لیے جرمانے کی ادائیگی کا اختیار بھی موجود ہو گا۔

قانونی ترمیم کی بدولت اب حکومت انٹرنیٹ پر یعنی آن لائن مواد کو بھی ہٹا سکے گی۔

لیکن ایک تبدیلی یہ بھی ہے کہ حکومت کو برا بھلا کہنا اب غیر قانونی نہیں رہا تاہم ملک کے وزیراعظم نجیب رزاق نے اسے یہ کہہ کر محدود کر دیا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مخالفین حکومت کو گرانے کے لیے مظاہروں کے ذریعے لوگوں کو اکسا سکتے ہیں۔

اس قانون پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ بغاوت انگیز اقدام کی تعریف واضح نہیں ہے اور یہ قانون ناجائز استعمال اور بدسلوکی کے لیے ایک کھلا قانون ہے۔

خیال رہے کہ اس قانون کی منظوری کے لیے ووٹنگ کے ایک روز قبل ہی اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ زید راعد الحسین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مایوس کن ہے کہ ملائشیا کی حکومت ایک بد قانون کو بدتر بنا رہی ہے۔

پہلے سےموجود قانون کے تحت لوگوں کو صرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر حکومت یا پھر عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا جاتا تھا۔

اسی بارے میں