’ہیلری کلنٹن آئندہ صدارتی انتخابات کی امیدوار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2008 میں وہ اپنی جماعت کی طرف سے صدراتی نامزدگی حاصل کرنے کے بہت قریب تھیں لیکن براک اوباما کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا

امریکہ کی سابق خاتونِ اول اور سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن اتوار کو اعلان کرنے والی ہیں کہ وہ امریکہ کے صدر کے لیے ہونے والے آئندہ انتخابات میں امیدوار ہوں گی۔

امریکی میڈیا میں آنے والی مختلف رپورٹوں کے مطابق ہیلری کلنٹن اپنے صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کریں گی۔

’کاش وہ کچھ اور دن رک جاتیں‘

67 سالہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کرنے کے بعد وا اور نیو ہمشائر جائیں گی جہاں سنہ 2016 کی انتخاب کے لیے اولین پرائمری مقابلے ہوں گے۔

ہیلری کلنٹن سنہ 2008 کے انتخابات میں بھی صدارتی دوڑ میں شامل تھیں۔ وہ اس بات حکمراں جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کی مضبوط امیدوار ہیں۔

توقع ہے کہ مسز کلنٹن ایک وڈیو میں اپنی صدارتی مہم کے اہم موضوعات کا ذکر کریں گی لیکن اس وڈیو میں کوئی رسمی تقریر نہیں ہوگی۔

شمالی امریکہ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار اینتھونی زرچر نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ہیلری کلنٹن انتخابی دوڑ میں شامل ہونے کو تیار ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا لوگ بھی انھیں ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔

سنہ 2008 میں وہ اپنی جماعت کی طرف سے صدراتی نامزدگی حاصل کرنے کے بہت قریب تھیں لیکن براک اوباما کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔اوباما کئی نسلوں میں پہلے سیاہ فام امریکی صدر بنے۔

تاہم اپنی کامیابی کے باوجود ان کی کوششوں میں کچھ تشویش پیدا کرنے والے عیب بھی نظر آئے جن میں ان کے مشیروں کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکرار، ان کا اکثر لوگوں سے پرے پرے رہنا اور ان کے بارے میں یہ خیال کہ انھوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ آخر وہ کیوں اتنے بڑے عہدے کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہیلری کلنٹن اپنے شوہر بل کلنٹن کے دو صدارتی ادوار میں سیاسی طور پر بہت متحرک تھیں اور اس کے بعد وہ کئی برس تک امریکی سینیٹ کی رکن بھی رہیں

اِس وقت ڈیموکریٹ پارٹی کے پاس ہیلری کلنٹن سے زیادہ بہتر بدل نہیں ہے لہٰذا امکان ہے کہ اس مرتبہ انھیں اپنی پارٹی کی جانب سے صدارتی انتخاب کے لیے نامزد کر دیا جائے گا۔ اس سے ہیلری کلنٹن کو انتخابی مہم کے لیے ایک طویل وقفے کے بعد خاصا وقت مل جائے گا جس سے وہ اپنا مقام و مرتبہ حاصل کر سکیں گی۔

’آئندہ موسمِ گرما میں انھیں ایک ایسے ریپبلیکن حریف کا سامنا ہوگا جو میدانِ سیاست کے داؤ پیچ سے خوب واقف ہوگا۔ پچھلی مرتبہ وہ کامیاب نہیں ہوئی تھیں لیکن اس بار ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ انھوں نے ماضی کی غلطیوں سے کیا سبق سیکھا۔‘

کچھ عرصہ پہلے مسز کلنٹن کو بطور وزیرِ خارجہ ایک سرکای کام کے لیے نجی ای میل کے استعمال اور ذاتی سٹاف سے فیصلہ کرانے پر کہ کونسی ای میلز عوامی ریکارڈ میں جائیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ہیلری کلنٹن اپنے شوہر بل کلنٹن کے دو صدارتی ادوار میں سیاسی طور پر بہت متحرک تھیں اور اس کے بعد وہ کئی برس تک امریکی سینیٹ کی رکن بھی رہیں۔

سنہ 2008 میں جب ڈیموکریٹ پارٹی پرائمری انتخاب کر ا رہی تھی کہ امریکہ کے صدر کے عہدے کے لیے کسے نامزد کیا جائے، تو ہیلری کلنٹن براک اوباما سے شکست کھا گئی تھیں۔ تاہم صدر بننے کے بعد براک اوباما نے انھیں وزیرِ خارجہ بنا دیا تھا اور وہ سنہ 2013 تک اس عہدے پر رہیں۔

ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے دو اہم امیدوار ٹیڈ کروز اور رینڈ پال نے امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے لیکن توقع ہے کہ اس دوڑ میں اور بھی بہت سے امیدوار شریک ہوں گے۔ ان میں فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش بھی شامل ہیں جن کے والد اور بھائی امریکہ کہ صدر رہ چکے ہیں۔

بش اور کلنٹن کے درمیان انتخابی معرکہ پہلے بھی ہوا ہے۔ پہلا ایسا انتخاب سنہ 1992 میں بل کلنٹن نے جیتا تھا۔ خیال ہے کہ اس بار امریکہ میں خاندانی سیاست سے متعلق بحث پھر تازہ ہو جائے گی۔

اسی بارے میں