لاطینی امریکہ میں دخل اندازی کے دن گئے: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی براعظموں کی ساتویں سربراہ کانفرنس پناما سٹی میں ہو رہی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے لاطینی امریکہ کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ دن بیت گئے جب امریکہ آزادانہ طور پر اِن ممالک کے علاقائی امور میں دخل اندازی کیا کرتا تھا۔

صدر براک اوباما نے یہ بات پاناما سٹی میں دونوں امریکی براعظموں کی سربراہ کانفرنس سے قبل کہی۔

صدر اوباما اور کیوبا کے صدر راؤل کاسترو دسمبر میں دنوں ممالک کے رشتوں میں آنے والی نرمی کے بعد پہلی بار براہ راست آمنے سامنے گفتگو کر رہے ہوں گے۔

لیکن ان کی ملاقات امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی کے زیر سایہ آ سکتی ہے۔

صدر اوباما نے پاناما سٹی میں سول سوسائٹی کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’وہ دن جب امریکہ یہ سوچتا تھا کہ اس خطے میں اسے کچھ بھی کرنے کے لیے چھوٹ حاصل ہے وہ دن اب بیت چکے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سربراہ کانفرنس سے قبل صدر اوباما اور کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے ایک دوسرے کا استقبال کیا

اس سے قبل دونوں امریکی براعظموں کے ممالک کی سربراہ کانفرنسوں میں جہاں شمالی، وسطی اور جنوبی امریکی ممالک کے سربراہان یکجا ہوتے تھے وہاں کیوبا پر پابندی لگانے اور اسے اس میں شرکت سے باز رکھنے کی وجہ سے امریکہ پر تنقید ہوتی تھی۔

یہ امریکہ کی ساتویں سربراہ کانفرنس ہے اور کیوبا اس میں پہلی بار شرکت کر رہا ہے یہاں دونوں سابق حریفوں ممالک امریکہ اور کیوبا کے رویوں پر لوگوں کی نظر مرکوز رہے گی۔

گذشتہ پانچ دہائیوں میں پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان باضابطہ طور پر ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔

صدر اوبامہ نے امید ظاہر کی ہے کہ رشتوں میں نرمی کے سبب کیوبا کے لوگوں کی زندگی میں بہتری آئے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برازیل کی صدر دیلما روسیف اور امریکی صدر سربراہ کانفرنس سے قبل

انھوں نے کہا: ’یہ ہماری یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ کیوبا کے لوگوں کی اپنی صلاحیت، جدت پسندی اور خواہشات کی وجہ سے ہوگا تاکہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ ان کی خوشحالی کا بہترین راستہ کیا ہے۔‘

خیال رہے کہ اوباما کے بیان سے ایک دن قبل امریکہ کی وزارت خارجہ نے یہ تجویز دی تھی کہ کیوبا کا نام ان ممالک کی فہرست میں سے ہٹا دیا جانا چاہیے جو دہشت گردی کی معاونت کرتے ہیں۔

کیوبا کا امریکہ کی اس فہرست میں شامل ہونا ہی دونوں ممالک کے درمیان قریبی رشتے میں اہم رکاوٹ تھا۔

جمعرات کو صدر نے کہا تھا کہ انھیں اس بابت ان کے مشیروں کی جانب سے سفارش کی ضرورت ہے۔ اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ سربراہ کانفرنس میں صدر اوبامہ کیوبا کا نام اس فہرست سے ہٹانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

جہاں کیوبا کے ساتھ رشتے استوار ہو رہے ہیں وہیں وینزویلا کے ساتھ رشتوں میں گذشتہ برسوں کے دوران تلخی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ سربراہ کانفرنس ایٹلاپا کانوینشن سنٹر میں منعقد ہو رہا ہے

دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ چھ برسوں کے دوران سفارت کاروں کا تبادلہ نہیں ہوا تاہم دونوں کے درمیان کشیدگی گذشتہ ماہ اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ نے وینزویلا کے حکام کے ایک گروپ پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگاتے ہوئے پابندی عائد کردی۔

پابندی کے جز کے طور پر صدر اوباما نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا جس میں وینزوئیلا کو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

وینزویلا کے صدر ماورو نے اسے ختم کرنے کے لیے ایک کروڑ دستخط حاصل کیے ہیں۔

اس سربراہ کانفرنس میں جہاں کاسترو اور اوباما کی تاریخی ملاقات اہمیت کی حامل ہے وہیں مدورو اور اوباما کی ملاقات ناقابل پیشگوئی کے سبب لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

دریں اثنا وینزویلا کے صدر نے جمعے کو ملے جلے اشارے دیے ہیں۔

پاناما پہنچنے کے بعد انھوں نے 1989 میں وہاں امریکی حملے کے متاثرین کی یادگار کا دورہ کیا تاہم اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ یہ سامراجیت کا نہیں امن کا وقت ہے۔

اسی بارے میں