بونوں کی ایک ’خوش وخرم‘ سلطنت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یاد رہے کہ چین میں توہم پرستی کی وجہ سے پست قد لوگوں کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے

چین میں ’چھوٹے لوگوں کی سلطنت‘ کے نام سے پہچانے جانے والا ایک تھیم پارک سیاحوں میں بہت مقبول ہو چکا ہے۔

جب سنہ 2009 میں اس کی بنیاد رکھی گئی تھی تو اس کا مقصد دراصل ان افراد کو ملازمت فراہم کرنا تھا جو کسی وجہ سے پست قد رہ جاتے ہیں، لیکن حکام کو کئی حلقوں کی جانب سے اب اس تنقید کا سامنا ہے کہ یہ پارک بنا کر پست قد لوگوں کو معاشرے سے الگ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ چین میں توہم پرستی کی وجہ سے پست قد لوگوں کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

میں جیسے ہی ’چھوٹے لوگوں کی سلطنت‘میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دھند سے ڈھکی ہوئی پہاڑیوں سے جو استقبالیہ پارٹی ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے نکل رہی تھی ان کے چہروں سے قطعاً یہ نہیں دکھائی دیا کہ وہ اپنی زندگی سے ناخوش ہیں یا ان کا استحصال ہو رہا ہے۔

ہم نے وہاں قرونِ وسطیٰ کی فوجی وردیاں پہنے ’محافظ‘ دیکھے جن کے ہاتھوں میں پلاسٹک کی تلواریں تھیں۔خوب بناؤ سنگھار کیے ہوئے رقاص دیکھے جو صبح کا پہلا شو دیکھنے کے لیے آنے والے پچاس کے لگ بھگ مہمانوں کا استقبال مسکراہٹوں کے ساتھ کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ پارک قریبی شہر کنمِنگ سے زیادہ منظم دکھائی دیا جو گذشتہ عرصے میں خاصا پھیل چکا ہے

چینی زبان نہ سمجھنے والوں کے لیے وہاں پر موجود ایک ترجمان نے مجھے بتایا کہ رنگ برنگی وردیوں میں ملبوس محافظوں میں آگ بجھانے والا عملہ، پولیس سے لے کر ایک پارلیمان کے ارکان اور ایک مقامی حکمران بھی موجود ہے جسے جمہوری انداز میں منتخب کیا گیا ہے۔

عملے کے وہ افراد جو ڈانس یا اس قسم کی کوئی دوسری تفریحی خدمات سرانجام نہیں دے سکتے انھیں سکیورٹی، دستکاری، کھانا پکانا یا پارک کی صفائی وغیرہ کا کام دیا جاتا ہے۔

سچ پوچھیں تو مجھے یہ پارک قریبی شہر کنمِنگ سے زیادہ منظم دکھائی دیا جو گذشتہ عرصے میں خاصا پھیل چکا ہے اور اپنا قدرتی حسن سیاحوں کو دکھانا چاہتا ہے لیکن وہاں کی سڑکیں اور دیگر شہری سہولیات ابھی اس قابل نہیں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ کنمِنگ کے شاندار ہوٹلوں میں بڑے بڑے فلیٹ سکرین ٹیلی ویژن تو موجود ہیں لیکن ہوٹل کو گرم رکھنے کا کوئی بندوبست نہیں۔ شہر کی آدھی شہراہیں نامکمل پڑی ہوئی ہیں۔ عوامی بیت الخلاء مائع کی حد تک تو کام کرتے ہیں لیکن میں آپ کو خبردار کرنا چاہوں گا کہ یہ بیت الخلاء کسی ٹھوس چیز کے اخراج کے متحمل نہیں ہیں۔

یہاں کے پست قد رہائشیوں کے پلاسٹک سے بنے ہوئے گھر مشروم کی شکل کے ہیں جو آپ کو سنہ 90 کی دھائی کی ’نِنٹینڈو‘ گیم کی یاد دلاتے ہیں۔یہ لوگ ایک چھوٹی سے پہاڑی پر بیٹھے رہتے ہیں جہاں سے مختلف گروہ اپنی اپنی باری پر نیچے اترتے ہیں اور سیاحوں کے سامنے پریڈ کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ مشروم یا کھمبی کی شکل کے ان گھروں میں رہتے نہیں بلکہ ان کے گھر اس پہاڑی سے تھوڑے فاصلے پر ہیں جہاں ہیٹر لگے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پارک کے رہائشی ایک خاص حد سے بڑے قد کے افراد کو یہاں رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔

پریڈ کے دوران مختلف فنکاروں کے درمیان آپ کو بادشاہ دکھائی دیتا ہے۔ بڑی عمر کے یہ بادشاہ سلامت گاہے بگاہے سیاہ چوغے سے ہاتھ لہرا کر اپنی رعایا کے نعروں کا جواب دیتے رہتے ہیں۔

پارک کے رہائشی ایک خاص حد سے بڑے قد کے افراد کو یہاں رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پارک میں پھرنے والے آوارہ کتوں کے لیے بھی قد کی حد مقرر ہے کیونکہ یہاں آپ کو صرف ’چہاس‘ اور ’پاپِلنز‘ نسل کے پست قد کتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں آنے والے سیاحوں کی اکثریت چینی ہے جو ڈانس اور جسمانی کرتب دکھاتے ہوئے فنکاروں کا استقبال تالیوں سے کرتے ہیں اور فنکاروں کی حرکات اپنے کیمروں میں محفوظ کرتے رہتے ہیں۔ ہر شو میں آپ کو ایک تنومند پہلوان بھی دیکھنے کو ملتا ہے جو اپنے وزن سے زیادہ بھاری وزن کے پتھر اٹھا کر داد وصول کرتا ہے۔

پہلوان کے بعد حاضرین ایک جھوٹ موٹ کی ملکہ کو بھی خوب داد دیتے ہیں اور اس پرگلاب کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔ سیاح مختلف فنکاروں کے ساتھ تصویری بنواتے ہیں اور سب سے زیادہ مقبولیت پست ترین قد کے فنکار کے حصے میں آتی ہے۔

پارک افسران کی کوشش تھی کہ میں یہاں زیادہ سے زیادہ رہائشیوں سے ملوں۔ ان افسران کا اصرار ہے کہ ان کے پارک میں کوئی راز نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں پر رہنے والے لوگ خوش اور پر سکون دکھائی دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 200 رہائشیوں میں سے چند ہی ایسے تھے جو یہاں سے چلے گئے

مجھے بتایا گیا کہ چین کے زیادہ تر علاقوں میں ان لوگوں کو اپنے قد کاٹھ کا کوئی شخص نہیں ملتا۔ یہاں ان لوگوں کو خوش دلی سے قبول کیا جاتا ہے اور انھیں نہ صرف چینی زبان کی تربیت دی جاتی ہے بلکہ ان کے ناپ کے کپڑے بھی فراہم کیے جاتے ہیں اور اتنی تنخواہ بھی دی جو انھیں قبول ہوتی ہے۔

میری ملاقات ایک خاتون سے بھی ہوئی جن کا نام ہی ’چھوٹی چھوٹی‘ ہے۔ ان کا بوائے فرینڈ بھی ان کے ساتھ ہی رہتا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ وہ پارک میں بہت خوش ہیں۔چھوٹی چھوٹی نے مجھے بتایا کہ یہاں کے 200 رہائشیوں میں سے چند ہی ایسے تھے جو یہاں سے چلےگئے تاہم اس کی وجہ یہاں کا ماحول نہیں بلکہ یہ تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کو یاد کرتے تھے اور واپس ان کے پاس جانا چاہتے تھے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ پارک میں آنے سے پہلے وہ شراب خانوں میں گانے گاتی تھیں جس کے عوض انھیں ریزگاری مل جاتی تھی لیکن شرابی مرد ان کے جسم کو ہاتھ لگانے سے نہیں کتراتے تھے اور ان پر شراب پھینک دیتے تھے۔ لیکن اب وہ پارک میں سیاحوں کے سامنے گانا گاتی ہیں تو لوگ تالیاں بجاتے ہیں اور ان پر پھول پھینکتے ہیں۔

ایک دوسری خاتون نے مجھے بتایا کہ یہاں آنے سے قبل وہ ایک بدبودار فیکٹری میں کام کرتی تھیں جہاں انھیں زہیلی فضا میں رہنا پڑتا تھا۔

دیگر رہائشیوں میں اکثر ماضی میں بھیک مانگا کرتے یا چوری کرتے تھے۔

ان رہائشیوں کی اکثریت کو ماضی میں جس طعن و تشنیع اور برے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا، پارک میں آنے کے بعد اُس سے ان کی جان چھوٹ گئی۔

اگلے تین دنوں کے دوران میں بار بار اس پارک گیا اور میں نے دیکھا کہ سیاح ان پست قد افراد کو دیکھ کر تالیاں بجاتے ہیں لیکن میں نے کسی کو فنکاروں سے بد تمیزی کرتے یا ان کا تمسخر اڑاتے نہیں دیکھا۔

آہستہ آہستہ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں رہنے والے بونے حضرات و خواتین کے لیے سب سے بڑی کشش محبت اور جنسی تعلقات ہیں۔

یہاں آنے سے پہلے ان تمام لوگوں کو یہ مسئلہ رہا کہ وہ شادی نہیں کر سکتے تھے اور اپنے قد وقامت کے لوگوں سے تعلق نہیں جوڑ سکتے تھے، لیکن یہاں آنے کے بعد کئی لوگ شادیاں کر چکے ہیں اور اب ان کے بچے بھی ہیں۔

مجھے بتایا گیا کہ پارک کے اندر مکانوں پر کوئی تالے نہیں لگائے جاتے کیونکہ یہاں جرائم کا نام و نشان نہیں۔ ہر ایک دوسرے کی تقریب میں خوشی سے شریک ہوتا ہے اور اگر کوئی چھوٹا موٹا جگھڑا ہو بھی جاتا ہے تو اسے منتخب کونسل حل کر دیتی ہے۔

لگتا یہی ہے کہ ان فنکاروں کا جو چہرہ سیاحوں کے سامنے آتا ہے وہ زیادہ پرکشش نہیں، بلکہ کسی قدر بھدا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس سٹیج سے دور اپنی بستی میں ان کو وہ عزت اور تخلیہ دستیاب ہے جو کسی بھی انسان کا حق ہے۔

پارک سے رخصت ہونے سے پہلے میں چھوٹی چھوٹی سے ایک مرتبہ پھر ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں چاہے اس پارک میں رہوں یا کہیں اور چلی جاؤں، لوگ مجھے دیکھ کر حیران تو ہمیشہ ہوں گے۔

لیکن یہ خیال میرا دامن نہیں چھوڑ رہا کہ اگر لوگ دن کے چار گھنٹے آپ کو گُھور گھُور کر دیکھتے رہیں اور اس کے عوض آپ کو رہنے کی محفوظ جگہ اور تھوڑی سی خوشی مل جائے، کیا یہ واقعی گھاٹے کا سودا نہیں۔

اسی بارے میں