’پاکستان کو مبہم موقف کی بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اس اہم موقعے پر سیاسی حمایت موجود نہیں ہے‘

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے یمن کے تنازعے میں غیر جانبدار رہنے کے فیصلے پر پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم رائے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

پاکستان کی پارلیمان نے جمعے کو متفقہ طو پر منظور شدہ قرارداد میں حکومت سے کہا تھا کہ پاکستان اس تنازعے میں غیرجانبدار رہے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرے۔

کیا سعودی عرب ناراض نہیں ہو گا

’سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی‘

پاکستان کے اس فیصلے کے بعد سعودی عرب کا کہنا تھا کہ پاکستان کے فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں جاری مہم پر اثرانداز نہیں ہوگا۔

اماراتی وزیرِ خارجہ کی تنبیہ سامنے آنے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ کہ وہ اس بیان پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے پاس اس بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے پاکستانی پارلیمان میں یمن کے تنازعے پر غیر جانبدار رہنے کی متفقہ قرار داد منظور ہونے کے بعد جمعے کی شب ٹوئٹر پر اپنے بیانات میں اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔

خلیج ٹائمز کے مطابق انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا:’عرب خلیج اس وقت خطرناک جنگ میں ہے، اس کی سٹریٹیجک سکیورٹی خطرے کے دہانے پر ہے اور اس وقت اس سچ کو واضح کرنا ہوگا کہ اصل اتحادی کون ہیں، میڈیا اور بیانات کی حد تک رہنے والے اتحادی کون ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے مزید کہا کہ’پاکستان کو خلیج تعاون کونسل کی چھ ریاستوں کے ساتھ اپنے سٹریٹیجک تعلقات کے حق میں واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم آراء کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘

اماراتی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ ایک کاہلی پر مبنی غیرجانبدارانہ موقف کے سوا کچھ نہیں۔‘

انھوں نے یمن کے تنازع پر ترکی اور ایران کا موقف کو یکساں قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جس میں ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ مسئلے کے سیاسی حل کی ذمہ داری ترکی اور، ایران اور سعودی عرب کی ہے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق ڈاکٹر قرقاش نے پاکستان کی ایران کے بارے میں پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ’لگتا ہے کہ اسلام آباد اور انقرہ کے لیے خلیجی ممالک کی بجائے تہران زیادہ اہم ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشی اور سرمایہ کاری کے اثاثے ناگزیر ہیں لیکن اس اہم موقعے پر سیاسی حمایت موجود نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’پاکستان اور ترکی کی مبہم اور متضاد رائے واضح ثبوت ہیں کہ لیبیا سے لے کر یمن تک کی ذمہ داری کسی کی نہیں بلکہ عرب ریاستوں کی ہے اور ہسمایہ ممالک کے لیے یہ بحران ایک اصل امتحان ہے۔‘

یمن کی صورتحال پر پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی تھی کہ سعودی عرب نے پاکستان سے بّری، فضائی اور بحری طاقت کی مدد مانگی ہے۔

تاہم پارلیمان نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں اتحاد کی عسکری کارروائی میں شمولیت کی سعودی عرب کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد میں کہا تھا کہ ملک کو اس تنازعے میں اپنی غیرجانبداری برقرار رکھنی چاہیے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران ہی ایران کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا۔

اسی بارے میں