امریکہ - کیوبا تعلقات: چی گویرا ہوتے تو کیا کہتے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چی گویرا کی سوانح نگار لوشیا الویرز ڈی تولیدو کہتی ہیں کہ چی گویرا کو امریکہ سے نفرت تھی۔

امریکہ اور کیوبا کے صدور براک اوباما اور راؤل کاسترو کے مابین گذشتہ روز نصف صدی کے بعد پہلی مرتبہ پامانہ میں ملاقات ہوئی۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں تقریباً 50 برس تک کشیدگی کے بعد پچھلے چند ماہ میں گرم جوشی دیکھنے میں آئی ہے تاہم ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے مابین حالیہ قربت کہیں کیوبا کے انقلابی ماضی سے بے وفائی تو نہیں۔

50 برس سے زیادہ کا عرصہ گزرا ہے جب انقلابی رہنما چی گویرا نے فیڈل اور راؤل کاسترو کے شانہ بہ شانہ لڑتے ہوئے کیوبا میں امریکہ نواز حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں سوشلسٹ حکومت قائم کی تھی۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں حالیہ بہتری پر چی گویرا کی سوانح نگار لوشیا الویرز ڈی تولیدو کہتی ہیں کہ چی گویرا کو امریکہ سے نفرت تھی۔

لوشیا کہتی ہیں: ’چی، کیوبا کی روح ہے۔ وہ قوم کا عزم ہے۔ وہ ہر جگہ ہے۔ انہوں نے میری سوچ کو زبان بخشی۔ میں ان ہولناک امریکیوں میں گھِری ہوئی تھی، اور ہم ایک نوآبادی کی طرح تھے۔

’اور پھر اچانک ہم میں سے یہ شخص نمودار ہوا جو ہماری طرح لگتا، بولتا اور سوچتا تھا۔ بلاشبہ ہمیں اس سے محبت ہے۔

’وہ سامراجیت سے قطعی طور پر متنفر تھے۔ کیلوں کا سارا کاروبار امریکیوں کے قبضہ میں تھا۔ اگر آپ کیلوں کی ایک کمپنی کے مالک تھے اور آپ کے کارکن کئی کئی گھنٹوں تک کام کرتے، انہیں انجمنیں بنانے کا اجازت نہیں تھی اور ان کے بچے بھوک سے مر رہے تھے۔ ایسے میں آپ امریکیوں کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟ سادہ سی بات ہے۔

’وہ بالکل (امریکہ سے) بالکل متنفر تھے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ جس برِاعظم کو قطعی مفلس نہیں ہونا چاہیے تھا بالکل مفلس تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

’جب انقلاب فاتح ہوا تو جو بھی امریکیوں سے وابستہ تھا یہاں سے نکل گیا۔

’یہاں کوکا کولا کے پلانٹ کے بارے میں ایک بات مشہور ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ بھی بند ہو چکا تھا، مگر اس نے کہا: ’اب تمھیں اسے دوبارہ چلانا ہے کیونکہ تمھیں ملازمت کی ضرورت ہے۔‘ اور اس پر انہوں (ملازمین) نے کہا کہ فارمولا تو ان کے ساتھ چلا گیا ہے۔ چی گویرا نے کہا: ’اچھا، تو مختلف آمیزے آزماؤ جب تک کہ تمھیں کوکا کولا کا فارمولا نہ مل جائے، اور اس طرح ہم کیوبا کولا بنا سکتے ہیں۔‘

’آج چی کہتے کہ کیوبا کا انقلاب اس قدر راسخ ہے کہ کوئی اسے ان سے نہیں چھین سکتا۔ کوئی انھیں قومی صحت سروس اور تعلیم سے محروم نہیں کر سکتا۔ اس پر میں بہت خوش ہوں کیونکہ انقلاب ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے۔

’وہ کہتے: ’اچھا ہے کہ اب انہیں ہوش آگیا ہے اور اپنے طرزِعمل میں موجود غلطی کو مان گئے ہیں۔‘ کیونکہ یہ امریکی ہی ہیں جنہوں نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ ان کے رویہ سے انہیں کچھ ہاتھ نہیں آیا اور اب انہیں خود کو بدلنا پڑ رہا ہے۔‘

پروفیسر لوئیس پیریز امریکہ میں نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی میں شعبۂ لاطینی امریکہ کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ کیوبا کے لوگ تبدیلی کے معمار بنیں اور اپنی حکومت پر انحصار کم کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’امریکہ میں تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے یہ خیال بہت راسخ ہے کہ کیوبا کا مقدر ان سے وابستہ ہے۔ یہ خیال پابندیوں کے زمانے میں پروان چڑھا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ آزادی سے شراب پی سکتے ہیں اور جوا کھیل سکتے ہیں۔ دراصل امریکیوں کے نزدیک کیوبا ایک نیم گرم جزیرہ تھا جہاں وہ عیاشی کر سکتے تھے۔

’پچھلے 24 ماہ کے دوران کیوبا کی حکومت نے کیوبا کے مفادات کو ترجیح دینا شروع کردی۔ یعنی کیوبا وہاں کے شہریوں کے لیے ہے۔

’1960 سے لے کر 2014 تک امریکیوں کا اہم مقصد کیوبا کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ اس کے حصول کے لیے وہ وہاں معاشی مسائل اور لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا چاہتا تھا تاکہ کیوبن لوگ اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اس طرح امریکہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر لے۔

’مگر اب کیوبا کے لوگوں کو زیادہ بااختیار بنانے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے تاکہ حکومت پر ان کا انحصار کم ہو اور اس طرح وہ اندر سے سیاسی تبدیلی لانے والے بن جائیں۔

’اس طرح کیوبا میں امریکی سرمایے، امریکی سیاحوں اور امریکی مصنوعات کی بھرمار ہوجائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیوبا کے شہری اس نئے سماجی معاشی ماحول سے کیسا رشتہ قائم کرتے ہیں۔

’جہاں تک کہ اس پر چی کے ردعمل کا تعلق ہے تو فیڈل کاسترو کے اس خط کو دیکھنا چاہیے جو ایک اخبار میں شائع ہوا اور جس میں انہوں نے بادل ناخواستہ تبدیلی کی حمایت کی تھی۔ وہ امریکہ کے ساتھ صلح کو ناگزیر سمجھتے ہیں، لیکن ساتھی ہے بہت زیادہ محتاط بھی ہیں۔‘

اسی بارے میں