کیا دبئی میں مزید اقتصادی بحران آ سکتا ہے؟

Image caption بہت سے سرمایہ دار دبئی کے پرتعیش طرز زندگی زیادہ متاثر ہیں

دبئی میں گھر خریدنے والے چاہیں تو چمکدار کرسٹل سے بھرے پر تعیش اپارٹمنٹ بلاک خریدیں یا پھر مصنوعی جزیروں پر تعمیر کیے گئے لاکھوں ڈالر کے ولاز۔ کیا ان ریتلے علاقوں میں سرمایہ کاری ریگِ رواں پر کھیلنے کے مترادف ہے یا دبئی نے 2008 کے پراپرٹی کے کریش سے کچھ سیکھا ہے؟

بہت سی وجوہات ہیں کہ لوگ اب بھی دبئی میں جائیداد خریدتے ہیں۔

مثلاً یہ کہ دبئی امیر غیر ملکیوں کے لیے ٹیکس بچانے کی بہترین جنت ہے۔

یہاں پر کافی عرصے سے مقیم برطانوی شہری اینڈریو لیمن کہتے ہیں: ’سورج، مزہ اور ٹیکس کی چھوٹ یہاں کی بڑی کشش ہے۔‘

دبئی کشیدگی سے دوچار مشرقِ وسطیٰ میں بھی علاقائی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ جگہ ہے۔

لبنان میں پیدا ہونے والی بزنس وومن نیجود نصر لبنان کی خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد 1975 میں اردن آ گئی تھیں۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے خاندان کے لیے دبئی اب سب سے محفوظ مقام ہے کیونکہ باقی مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی عدم استحکام کافی زیادہ ہے۔

امیر ایشیائی باشندوں کے لیے بھی یہ ایک قریبی، آرام دہ جگہ ہے جہاں وہ سکون سے رہ سکتے ہیں۔

سابق انڈین نجی بینکر رنجیتا بالاسبرامنیم کے لیے دبئی رہائش اور سرمایہ کاری کی تمام شرائط پر پورا اترتا ہے۔

انھیں اس میں مشرق اور مغرب کا امتزاج پسند ہے۔ وہ امارات میں ہی رہنا چاہتی ہیں۔

2013 کے بعد گھروں کی قیمتوں میں اضافے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ماضی کے ہنگامہ خیز دور کے بعد دبئی کے ریئل سٹیٹ سیکٹر پر لوگوں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔

Image caption حالیہ برسوں میں دبئی میں بہت تیزی سے تعمیراتی ترقی ہوئی ہے

لیکن آخر کیا ہوا تھا اور کیا کچھ بدلا بھی ہے؟

جب 2002 میں غیر ملکیوں کو یہاں پراپرٹی خریدنے کی اجازت دی گئی تو مچھیروں کا یہ گمنام سا گاؤں ایک عالمی مرکز بن گیا۔

سٹیٹ ایجنٹس، جنھوں نے پراپرٹی میں اس اضافے کو دیکھا ہے کہتے ہیں کہ یہ بالکل وائلڈ ویسٹ کی طرح تھا کیونکہ یہاں قوانین بہت نرم تھے۔

لنڈا ماہونے، جو دبئی کے پہلے غیر ملکی سٹیٹ ایجنٹوں میں سے ہیں، اسے ایک میوزیکل چیئر کی طرح دیکھتی ہیں۔

’یہ چلتا رہا اور ہمیشہ بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ ہوتی۔ جون 2008 میں موسیقی بند ہو گئی اور بیٹھنے کے لیے کوئی کرسی نہ بچی۔

جب 2007 کے عالمی اقتصادی بحران کا اثر ایک سال بعد دبئی پر پڑا تو قرض دینے کا عمل بند ہو گیا، بہت سے غیر ملکی سرمایہ کار ملک چھوڑ گئے اور امارات کی ضرورت سے زیادہ چڑھی ہوئی ریئل سٹیٹ مارکیٹ پر سے لوگوں کا اعتماد جاتا رہا۔

وہ ایک مشکل وقت تھا۔ پراپرٹی کی قیمتیں مہینوں میں آدھی ہو گئی تھیں۔ سٹاک مارکٹیں 70 فیصد تک گر گئیں اور ہزاروں مزدوروں کو وطن بھیج دیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر ایشیائی تھے۔

بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے روک دیے گئے یا بالکل ختم کر دیے گئے۔

اقتصادی بحران سے پہلے سرمایہ کاروں نے ایک بڑے رہائشی منصوبے میں سرمایہ کاری کی تھی جو دبئی گالف کورس اور سمندر سے 15 منٹ اور دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈے سے آدھے گھنٹے کی دوری پر ہے۔

2007 میں سرمایہ کاروں نے اس میں دسیوں ہزار ڈالر لگائے تھے لیکن ابھی تک انھیں اس میں سے کچھ نہیں ملا ہے۔

اس کے ڈویلپر اے سی ڈبلیو ہولڈنگز کہتے ہیں ’منصوبہ تکمیل کے قریب ہے۔‘ یہ تقریباً 80 فیصد سے زیادہ مکمل ہو چکا ہے۔

دوسرے اتنے خوش قسمت نہیں اور تقریباً سب ہی کچھ نہ کچھ کھو کر منصوبے بند کر چکے ہیں۔

اقتصادی بحران کا ایک اثر دبئی کو واجب الادا بڑے قرضوں کے سامنے آنے سے ہوا۔

2008 میں دبئی کے پام جمیرا جزیرے کے منصوبے اور دو دیگر منصوبے، جو حکومت کے ڈویلپر نخیل نے بنائے تھے، دبئی کو تقریباً دوالیہ کرنے والے تھے کیونکہ ان کے لیے بہت زیادہ قرضہ لیا گیا تھا۔

اس کو صرف دبئی کے تیل کی دولت سے مالا مال ہمسائے ابو ظہبی کے 20 ارب ڈالر کی مدد نے ڈوبنے سے بچایا تھا۔

اس میں سے آدھے سے زیادہ رقم نخیل کو بچانے کے لیے استعمال کی گئی۔

نخیل کے چیئرمین علی راشد کہتے ہیں کہ کمپنی پر اب بھی 1.2 ارب ڈالر کا قرضہ ہے جو کہ توقع ہے کہ اگلے برس اگست تک ادا ہو جائے گا۔

تاہم انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق ریاست سے منسلک اداروں نے اب بھی 140 ارب ڈالر کے قرضے دینے ہیں۔

لیکن اب ریئل سٹیٹ کے قوانین بہتر بنائے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دبئی کے ڈویلپرز کے مطابق اس میں نیویارک یا لندن بننے کی صلاحیت ہے

حکومت نے ٹرانسیکشن ٹیکس کو دگنا کر کے سٹے بازوں کی حوصلہ شکنی کی ہے اور ایسے بھی قوانین بنائے گئے ہیں کہ اگر پراجیکٹ منسوخ کر دیا جاتا ہے تو سرمایہ کاروں کو معاوضہ دیا جائے۔

لیکن دبئی کے بارے اب بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

سنیل جسوال نے دبئی پر پہلا بین الاقوامی پراپرٹی شو منعقد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے شو میں سب سے زیادہ یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ مارکیٹ بیٹھ تو نہیں جائے گی۔

’اس وقت دبئی میں مارکیٹ کافی مستحکم ہے۔ ہم نےترقی کی فراوانی نہیں دیکھی ہے۔ کیا مارکیٹ کریش کرے گی؟ یقیناً ایسا وہ کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا تین ماہ بعد ہو جائے۔ میں نہیں جانتا۔‘

لنڈا ماہونے بھی سمجھتی ہیں کہ مارکیٹ پھر ضرورت سے زیادہ گرم ہو رہی ہے۔

’میرے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ محتاط رہے اور مزید کسی اقتصادی بلبلے پر نظر رکھے۔‘

دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ بنانے والی کمپنی عمار کے مالک محمد الابار کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ، جسے وہ ’ایک اچھی ترتیب‘ کہتے ہیں، دو سال کے قریب رہے اور اس نے شہر کو قابل استطاعت بنا دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہمارے ارد گرد کے خطے میں تقریباً دو ارب لوگ رہتے ہیں، ان سب کی نظر ایک نئے مرکز کی طرف ہے جہاں آپ رہ سکتے ہیں، سرمایہ کاری کر سکتے، جو محفوظ ہے، جہاں خوشحالی ہے، صفائی ہے اور بتدریج ترقی ہوتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عمارتیں بنانے والے غریب مزدوروں کے لیے بھی کچھ کرے جنھیں بہت کم اجرت دی جاتی ہے اور جو بہت ہی خراب حالات میں رہتے ہیں۔

گذشتہ ماہ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے مزدوروں نے برج خلیفہ کے قریب اسی سلسلے میں احتجاج کیا تھا حالانکہ دبئی میں احتجاج پر پابندی ہے۔

مزدوروں کو اس بات پر تشویش تھی کہ ان کے اوور ٹائم میں کمی سے ان کی تنخواہیں ایک دم کم کر دی گئی ہیں۔

اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ خطہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے کیسے نمٹے گا۔

اگرچہ دبئی کا تیل کی آمدنی پر براہ راست انحصار نہیں لیکن اس کو قرض دینے والے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والے بہت سوں پر اس کا بہت اثر پڑتا ہے۔

دبئی کا مستقل کیا ہو گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم زیادہ تر سٹیٹ ایجنٹس کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو یہاں صرف ان طویل المدتی سرمایہ کاری کرنے والوں کو سرمایہ لگانا چاہیے جن میں اقتصادی بحران کا سامنا کرنے کی سکت ہو۔

اسی بارے میں